کراچی میں چھ ہلاک

کراچی میں سکیورٹی اہلکار(فائل فوٹو)
وقت اشاعت

کراچی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات سے فائرنگ کے مختلف واقعات میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

گزشتہ رات کراچی کے علاقے گلشن ٹاؤن میں تھانہ مبینہ ٹاؤن کی حدود میں دو گروپون کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کےدوران فائرنگ کی زد میں آکر مبینہ ٹاؤن تھانے کے ہیڈ کانسٹیبل سیدظاہرحسین شاہ اور کانسٹیبل مقصود مسیح ہلاک ہوگئے۔

کراچی میں نامہ نگار حسن کاظمی نے بتایا کہ تھانے کے ایس ایچ او عبدالستار پُھل کے مطابق رات آٹھ بجے کے قریب قائدِاعظم کالونی میں دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی تو فائرنگ کی زد میں آکر دو اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال لےجایا گیا مگر وہ جانبرنہ ہوسکے۔

دوسرا واقعہ گلستانِ جوہر تھانے کی حدود میں پیش آیا جہاں کانسٹیبل مظفر کو نامعلوم افراد نے قتل کردیا۔ گلستانِ جوہر تھانے کے انچارج آصف جاکھرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتول کانسٹیبل رات ساڑھے بارہ بجے اپنی ڈیوٹی ختم کر کے گھر جا رہا تھا کہ راستے میں کچھ افراد سے اس کا جھگڑا ہوا اور انہوں نے اسے گولیاں مارکر ہلاک کردیا۔

گلستانِ جوہر کے علاقے ہی میں آج صبح ایک چالیس سال کے قریب شخص کی بوری بند لاش ملی ہے، جس کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی۔ آصف جاکھرانی کے مطابق یہ قتل ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ لاش پر شدید تشدد کے متعدد نشانات ہیں اور اس کی ٹانگیں بھی کٹی ہوئی ہیں۔

کراچی کےایک اورعلاقےکورنگی میں زمان ٹاؤن تھانےکی حدود میں واقع نورانی بستی سے آج صبح دس بجے ایک تیس سالہ شخص کی لاش ملی ہے جسے گولیاں مار کرہلاک کیاگیا تھا۔ زمان ٹاؤن تھانے کے ڈیوٹی افسر اے ایس آئی علی کے مطابق لاش کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے رات کو کسی وقت ہلاک کیا گیا تھا۔

جبکہ زمان ٹاؤن ہی کے علاقے چکرا گوٹھ سے بھی ایک اور نوجوان کی لاش ملی ہے ۔ ان دونوں لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔