لیبیا: پاکستانی طلبہ کے پریشان خاندان

دیگر ملکوں کے شہریوں کی طرح کئی پاکستانی بھی لیبیا میں پھنسے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشندیگر ملکوں کے شہریوں کی طرح کئی پاکستانی بھی لیبیا میں پھنسے ہوئے ہیں۔
وقت اشاعت

لیبیا میں تعلیم کے حصول کے لیے مقیم پاکستانی طلبہ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انھیں جلد از جلد لیبیا سے وطن واپس بھیجنے کا انتظام کرے۔

طرابلس کی جامعہ دعوۃ اسلامیہ ( اسلامک کالج) میں زیر تعلیم حافظ محمد طلحہ عزیز نے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار سے بات کرتے ہوئےحکومت پاکستان سے اپیل کی ان کو واپس پاکستان پہنچانے میں ان کی مدد کی جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی بار طرابلس میں پاکستان کے سفارت خانے سے رابط کیا اور وہ یہی کہتے ہیں کہ آج رابط کریں گے کل رابط کریں گے لیکن آج تک انھوں نے کوئی رابط نہیں کیا۔

’میں وزرات خارجہ سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پاکستان کے شہری ہیں، ہم پاکستان کے پاسپورٹ ہولڈر ہیں، ہمارے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ ہے لہذا ہمارے ساتھ پاکستان کے شہری کی طرح کا ہی سلوک کیا جائے، ہمیں غیر ملکی نہ سمجھا جائے اور بے بس لاوارثوں کی طرح ہمیں نہ چھوڑا جائے۔‘

اسی جامعہ میں حافظ سعید کے کزن اظہار الحق بھی زیر تعلیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں راتوں کو نیند نہیں آتی ہے۔ ’ہم خون کے آنسوں روتے ہیں اور سب طلبہ کا یہی حال ہے۔‘

اظہار الحق نے کہا کہ پاکستان کے سفارت خانے کے اہلکاروں نے ہماری رجسڑیشن کی اور انھیں ایک سو بیالیس نمبر دیا گیا کہ یہ اس کا رجسڑیشن نمبر ہے۔

طرابلس کا ہوائی اڈہ
،تصویر کا کیپشنطرابلس کے ہوائی اڈے پر لیبیا چھوڑ کے جانے والوں کا رش

لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سفارت خانے کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔

انھوں نے کہا کہ بھارت اور دوسرے ممالک کے طلبہ چلے گئے یا جارہے ہیں لیکن ہماراتعلق ایک ایسی ’یتیم قوم‘ سے ہے کہ ہمیں کوئی نہیں پوچھ رہا ہے۔

طلحہ عزیز اور اظہارلحق سمیت اس جامعہ میں پچیس پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں اور وہ گھر واپس آنے کے لیے بے چین ہیں۔

پاکستان میں ان طلبہ کے والدین اپنے بچوں کے لیے پریشان ہیں۔

اسلام آباد کے رہائشی حافظ عزیز الرحمان طرابلس کی جامعہ میں زیر تعلیم حافظ محمد طلحہ عزیز کے والدہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کہتی ہے کہ ان کی صورت حال پر نظر ہے لیکن وہ عملی طور کچھ نہیں کررہے ہیں۔ حافظ عزیز الرحمان کا بیٹا کے علاوہ ان کا ایک بھانجھا اور بھتیجا زیر تعلیم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان ہمارے بچوں کو وہاں سے پاکستان واپس لانے کے لیے انتظام کرے۔‘

حافظ عزیز الرحمان نے بے بسی اور پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر وہاں خانہ جنگی شروع ہوئی تو وہاں تباہی مچ جائے گی اور ان کے بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔‘