امریکی کی درخواست مسترد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پشاور میں ایک مقامی عدالت نے امریکی شہر مارک ہیون کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔امریکی شہری کو تین روز پہلے پشاور کے رہائشی علاقے یونیورسٹی ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا تھا۔
مارک ہیون کے وکیل فخر عالم جھگڑا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے مارک ہیون کی ضمانت کی درخو است دی تھی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ قدرت اللہ مروت نے کہا ہے کہ مارک ہیون کو علم تھا کہ پاکستان میں قیام کے لیے ان کے ویزے کی معیاد ختم ہو چکی ہے لیکن اس ک باوجود وہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہائش پذیر رہے ہیں۔
امریکی شہری مارک ہیون کو پچیس فروری کو یونیورسٹی ٹاون کے علاقے سے قانونی دستاویز نہ ہونے پر فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے مارک ہیون کو چودہ روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
فخر عالم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ مارک ہیون باقاعدہ کام کرنے کے ویزے پر سن دو ہزار نو میں پاکستان آئے تھے اور ان کا ویزا تئیس اکتوبر دو ہزار دس کو ختم ہو چکا تھا جس کے بعد انھوں نے پندرہ نومبر کو ویزے میں توسیع کی درخواست دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے حکام نے انھیں بتایا کہ مارک ہیون کا ویزا انتیس مارچ سے ہی منسوخ کر دیا گیا تھا لیکن نہ تو اس بارے میں کوئی وجہ بتائی گئی اور نہ ہی کوئی ایسا طریہ بتایا گیا جس کے مطابق وہ کہیں درخواست یا اپیل کر سکتے۔
مارک ہیون نے پشاور میں کیٹلسٹ سروسز کے نام سے ایک سیکیورٹی کمپنی قائم کی تھی اور اطلاعات کے مطابق اس کمپنی میں کام کرنے والی ہزارہ ڈویژن کی ایک خاتون سے انھوں نے شادی کی تھی۔ کچھ ایسے اطلاعات بھی ہیں کہ مارک ہیون نے شادی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔
پشاور سے شائع ہونے والے اخبارات میں مارک ہیون کی گرفتاری اور اس بارے میں مزید تحقیقات کی خبریں شائع ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مارک ہیون کی تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔















