’سات وزراء کے لیے اضافی وزارتیں‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشناٹھارویں آئینی ترمیم کے مطابق وزیراعظم انچاس وزارء اور پانچ مشیر رکھنے کے مجاز ہیں
وقت اشاعت

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سات وزراء اور ایک وزیر مملکت کو اضافی وزارتیں سونپ دی ہیں۔

پاکستان کی نئی بائیس رکنی کابینہ نے گزشتہ ماہ بائیس فروری کو حلف اٹھایا تھا اور ان میں اکیس وزراء اور ایک وزیر مملکت شامل ہیں۔

<link type="page"><caption> بائیس رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110211_pak_cabinet_oath_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

سنیچر کو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے میڈیا آفس سےجاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان میاں منظور وٹو کو دفاعی پیداوار ،ٹیکسٹائل کے وزیر، مخدوم شہاب الدین کو ہاوسنگ اور ورکس اور وزیر برائے بین الصوبائی رابط رضا ربانی کو انسانی حقوق کی اضافی وزارتیں سونپی گئی ہیں۔

مذہبی امور کے وزیر خورشید شاہ کو محنت اور افرادی قوت، نجکاری کے وزیر نوید قمر کو بجلی اور پانی، وزیر کھیل انجینیئر شوکت اللہ کو ریاستی اور سرحدی امور کے اضافی قلمدان دے دیے گئے ہیں۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق وزیر برائے ماحولیات ثمینہ گھرکی کو خواتین کی ترقی کا اضافہ چارج دیا گیا ہے جبکہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کو خزانہ اور اقتصادی ڈویژن کا بھی وزیر مملکت بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نو فروری کو مستفیٰ ہوگئی تھی اور دو روز بعد بائیس رکنی نئی کابینہ نے حلف اٹھایا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے وزراء کی تعداد میں کمی کرنا ایک آئینی تقاضا تھا لیکن ملک کی خراب اقتصادی صورتحال کی وجہ سے میڈیا اور حزب مخالف کی جانب سے حکومت پر دباؤ تھا کہ وہ وزراء کی تعداد کم کرے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے مطابق وزیراعظم انچاس وزارء اور پانچ مشیر رکھنے کے مجاز ہیں۔

اس سے پہلے مستعفی ہونے والی کابینہ میں وفاقی وزراء، وزراء مملکت، وزیراعظم کے مشیر اور وفاقی وزیر کے درجے والی شخصیات کی تعداد اسی کے قریب تھی اور تقریباً تین برسوں میں اس کے پچہتر اجلاس منعقد ہوئے تھے۔