’شہباز بھٹی شہید ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کنٹربری کے آرچ بشپ روون ویلیمز نےکہا ہے کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی جانب سے حالیہ تشدد کے واقعات کی جڑ ناموس رسالت قانون ہے۔
کنٹربری کے آرچ بشپ روون ویلیمز نے یہ بات برطانوی اخبار ٹائمز میں مضمون میں کی ہے جو کہ غیر معمولی طور پر بڑا سخت بیان ہے۔
ڈاکٹر ویلمز نے کہا ’شہباز بھٹی شہید ہیں اور پاکستان کو شدت پسند بلیک میل کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دباؤ میں آکر اس قتل پر خاموش بیٹھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اور مسٹر بھٹی ان متنازع قوانین میں ترمیم کے لیے چلنے والی مہم کے رہنما تھے۔
کنٹربری کے آرچ بشپ نے حکومت پاکستان مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرے۔
ڈاکٹر روون ولیمز نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے واقعے کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
ان کے بقول پاکستان میں ایک ایسا فرقہ ہے جو قانون اور انصاف کے بالکل بھی حق میں نہیں ہے اور وہ مختلف مذاہب کے درمیان صرف نفرت کو ہوا دینا چاہتا ہے۔
ڈاکٹر ولیمز نے کہا کہ پاکستان میں ناموسِ رسالت کے قانون پر بحث شروع ہونی چاہیے کیونکہ یہ مسئلہ روایتی مذہب اسلام کو کمزور کررہا ہے اور اس کی وجہ بڑھتے ہوئے شدت پسندی کے رجحانات اور آگاہی کا فقدان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے متنبہ کیا ہے کہ بعض عناصر وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کو قتل کرکے مسلمانوں اور مسیحی کے مابین تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
اسلام آباد میں سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ان کا کہنا تھا ’میں ان عناصر کو سخت تنبیہہ کرتا ہوں کہ وہ ایسے بزدلانہ واقعات سے کبھی بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے کیوں کہ مسیحی برادری بڑی محب وطن ہے اور وہ ملک کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔‘
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں رسول خدا کی رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کی اس عظیم مثال کو نہیں بھولنا چاہیے جس میں انہوں نے نجران کے ایک مسیحی وفد کی مہمان نوازی خود کی اور انہیں اپنا ذاتی مہمان بنایا۔
’انہیں مسجد نبوی میں رہنے کی جگہ اور اپنی عبادت کرنے کی اجازت دی۔ یہ عظیم مثال ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایک نہایت فکر انگیز اور قابل توجہ امر یہ بھی ہے کہ سیرت رسول اور نبی رحمت کی مبارک تعلیمات سے دور ہونے اور سیرت کا علم نہ رکھنے کی وجہ سے نوجوانوں کی زندگی میں شدت پسندی اور عدمِ برداشت کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے ۔
’اس مشکل صورتحال میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہمارے علماءکرام اور دانشور حضرات بطور عالم اور دینی سکالرز اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ معاشرے خصوصاً نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے سیرت مطہرہ کی تعلیمات کو فروغ دینے کی جدوجہد کریں اور مسلم نوجوانوں کو سیرت رسول اپنانے کی دعوت دیں۔ وہ معاشرہ کو تحمل و برداشت، رواداری، محبت و اخوت، علم و عمل سمیت ان تمام پاکیزہ صفات سے روشناس کرانے کی کوشش کریں جن پر ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں پہلا اسلامی معاشرہ قائم فرمایا تھا۔‘
بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ڈرون حملوں کو سفارتی کوششوں کے ذریعے بند کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔



















