کونسے جج صاحب کیوں ناموزوں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے گذشتہ جمعے کو اپنے مختصر فیصلے میں حکومت کو لاہور اور سندھ ہائی کورٹس کےان چھ ایڈیشنل ججوں کی تقرری کا حکم دیا تھا جن کی تقرری کی سفارشات پارلیمانی کمیٹی نے مسترد کردی تھیں۔
پارلیمانی کمیٹی نے لاہور کے چار اورسندھ ہائی کورٹ کے دو ججوں کو ایک سال کے لیے تعینات کرنے کی عدالتی کمیشن کی سفارشات مسترد کردی تھیں۔
بی بی سی کو ملنے والی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کی دستاویزات کے مطابق کمیٹی نے اپنا فیصلہ لاہور اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز کی اپنے ججوں کے بارے میں تشخیص اورجانچ کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا تھا۔
دستاویزات کے مطابق کمیٹی نے دو فروری کے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کے چوبیس ججوں کی تعیناتی کے لیے عدالتی کمیشن کی سفارشات پر غور کرنے کے بعد چار ججوں کی تقرری کی سفارشات مسترد کردی تھیں۔
جن ججوں کی نامزدگی مسترد کی گئیں تھیں ان میں جسٹس مامون شیخ، جسٹس فرخ عرفان خان، جسٹس مظاہر علی اور جسٹس یاور علی خان ہیں۔
اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ دستاویزات کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے اپنے تاثرات میں کہا ہے کہ جسٹس مامون شیخ کی عمومی شہرت کے بارے میں لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانچ یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنے کام میں سست ہونے کے ساتھ ساتھ غیر فیصلہ کن، متذبذب اور جلدی فیصلہ کرنے میں کتراتے ہیں اور ہٹ دھرم ہیں۔
پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس مامون شیخ کی کارکردگی کے بارے میں اپنے تاثرات میں کہا ہے کہ مذکورہ جج کسی بھی صورت میں جلدی سے عدالتی کام نہیں نمٹاتے۔
اسی طرح سے لاہور ہائی کورٹ ہی جسٹس فرخ عرفان خان کی تعیناتی کی سفارش رد کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ چیف جسٹس کی جانچ یہ ظاہر کرتی ہے کہ انھیں قانون کے بارے میں محدود علم ہے اور یہ کہ انھیں پیشے کے ساتھ کمنٹمنٹ اور اس کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنےکی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی کارگردگی کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی نے اپنے تاثرات دیتے ہویے کہا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں بھی سست ہیں اور کام جلدی نہیں نمٹاتے۔
ان دستاویزات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانچ یہ ظاہر کرتی ہے جسٹس مظاہر علی بظاہر سخت مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ ان تک رسائی مشکل نہیں ہے۔ ’اور وہ گفتگو کرنے میں احتیاط نہیں برتتے۔‘
کمیٹی نے ان کی رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ تاثرات دیے ہیں کہ وہ بے لچک، متعصب اور جانبدار ہیں اور ان کا اپنے رفقہ کے ساتھ برتاؤ امتیازی ہے۔
دستاویزات کے مطابق لاہور ہائی کے جسٹس محمد یاور علی کی تعیناتی کی سفارش اس لیے رد کردی گئی تھی کیوں کہ ان کے چیف جسٹس کی رائے کے مطابق وہ کام میں سست تصور کیے جاتے ہیں اور ضروری ریلیف بھی فراہم نہیں کرتے۔
ان کی رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ وہ اپنی حیثیت کے بارے میں حساس ہیں اور ’الٹرا ماڈرن سرکل‘ میں اٹھتے بیٹھتے ہیں اور عام لوگوں کے ساتھ لاتعلقی کا رویہ اپنایا ہوا ہے۔
بائیس فروری کے اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی نے سندھ ہائی کورٹ کے دو ججوں محمد تسنیم اور جسٹس سلمان حامد کو بھی ایک سال کے لیے تعینات کرنے کی سفارشات رد کردی تھیں۔
دستاویزات کے مطابق جسٹس محمد تسنیم کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رائے ہے کہ ان کا طرز عمل، برتاؤ اور طور طریقہ معیاری نہیں ہے جبکہ جسٹس سلمان حامد کے بارے ان کا خیال ہے کہ ان کا طرز عمل اور طور طریقہ ایک جج کے شیان شان نہیں۔
ان دستاویزات میں کمیٹی کے کسی رکن نے پانچ ججوں کی سفارشات مسترد کیے جانے پر کوئی متضاد رائے نہیں دی۔
البتہ کمیٹی کے دو ارکان سینیٹر اسحاق ڈار اور رکن قومی اسمبلی مہتاب احمد خان نے لاہور کے جسٹس یاور علی خان کی نامزدگی مسترد کیے جانے کی مخالفت کی۔ ان دونوں اراکین کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے۔
دستاویز کے مطابق ان اراکین کا یہ موقف تھا کہ ایسے ہی وجوہات کچھ اور ججوں کے بارے میں تھیں لیکن ان کی تعیناتی کی سفارشات کو منظور کیا گیا۔



















