نئی سیاسی کھچڑی؟

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان جیسے ممالک کے سیاسی میدان کے کھلاڑی صرف سیاست دان یا سیاسی جماعتیں ہی نہیں ہوتیں بلکہ فوج، عدلیہ، میڈیا اور عالمی طاقتوں کو بھی اس کھیل کا اہم کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست پر نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے اور کسی غیر امکانی بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اب کی بار بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جو سیاسی کھچڑی پک رہی ہے وہ شاید کسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔
آج کل جو سیاسی سرگرمیاں پردے پر یا پردے کے پیچھے ہو رہی ہیں وہ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں ’سازشی‘ نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد رواں سال ایسے حالات پیدا کرنا ہے، جس سے موجودہ حکومت کا دھڑن تختہ ہو۔ ایسے میں کچھ متعلقہ فریقین کی کوشش ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کو تنہا کرلیں اور پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنا کر ایوان کے اندر سے تبدیلی لائی جائے۔ جبکہ بعض فریقین کی کوشش ہے کہ ایوان کے اندر سے تبدیلی کے بجائے ملک میں رواں سال نئے سرے سے عام انتخابات ہوں۔
جس کی بظاہر ایک بڑی وجہ مارچ سنہ دو ہزار بارہ میں پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے مجوزہ انتخابات بتائی جاتی ہے۔ اگر موجودہ اسمبلیوں سے سینیٹ کے انتخابات ہوتے ہیں تو حکمران پیپلز پارٹی بائیس کے قریب سینیٹ کی نشستیں جیت سکتی ہے اور یوں اس اکیلی جماعت کے پاس ایک سو اراکین والے ایوان بالا سینیٹ میں اراکین کی تعداد پینتالیس تک پہنچ سکتی ہے اور وہ آئندہ مدت کے لیے بھی وہ جوڑ توڑ کرکے اپنا چیئرمین منتخب کروانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔ ایسی صورتحال ایسٹیبلشمینٹ کو قابل قبول ہے اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) سمیت موجودہ اپوزیشن کی جماعتوں کو۔
آئندہ برس مارچ سے پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے پر تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایسٹیبلشمینٹ اور حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے مفادات میں ہم آہنگی ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کے بعد کے منظر نامے کے متعلق دونوں کی ترجیحات میں بظاہر اختلاف نظر آتا ہے۔ کیونکہ ایسٹیبلشمینٹ کی خواہش ہوگی کہ پیپلز پارٹی میں شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں فارورڈ بلاک بنے اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ایوان کے اندر سے تبدیلی لائی جائے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) کی خواہش ہوگی کہ ‘مڈ ٹرم’ انتخابات کروائے جائیں اور یہ معاملا ابھی طے ہونا باقی ہے۔
لیکن جن سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے آج کل سیاسی مارکیٹ میں مختلف قیاص آرائیاں ہو رہی ہیں وہ میاں شہباز شریف کی آرمی چیف سے بعض حالیہ خفیہ ملاقاتیں اور مولانا فضل الرحمٰن کی میزبانی میں منعقد ’سیاسی کھا نا‘ جس میں مسلم لیگ (ن)، متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ق) اور نیشنل پارٹی سمیت بعض سیاسی جماعتوں کے سرکردہ نمائندوں نے شرکت کی۔
اس اجلاس کے شرکاء نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کی اصلاح کے لیے مل جل کر کام کریں گے تاکہ عوام کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ حکومت کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ کی شرکت پیپلز پارٹی کو بہت ناگوار گزری اور سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے لیاری امن کمیٹی کے حق میں غیر متوقع اور دھواں دار بیان داغ دیا۔
متحدہ قومی موومنٹ اگر حکومت سے علیحدہ ہوتی ہے تو پیپلز پارٹی کی حکومت اکثریت کھو دے گی۔ ایسے میں حکومت کے لیے جہاں سیاسی میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا تو دوسری طرف عدالتی فورم پر ان کی سرزنش۔ سپریم کورٹ نے لاہور اور سندھ ہائی کورٹس کے ان چھ ججوں کی بھرتی کے معاملے میں آئین کے تحت بنائے گئے پارلیمانی کمیشن کے فیصلے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے مھابق اس معاملے میں عدلیہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اور عدلیہ کے فیصلے سے پارلیمانی کمیٹی محض ایک ربڑ سٹیمپ بن گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی گزشتہ روز کالم نگاروں سے خطاب میں واضح کیا ہے کہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سربراہ کے عہدے سے وسیم احمد کو ہٹانے کی بات پر بھی حکومت اور عدلیہ میں کشیدگی بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔
ایسی صورتحال کا اپوزیشن بھرپور فائدہ اٹھائے گی اور ہوسکتا ہے کہ متحدہ اپوزیشن اب کی بار حکومت کے لیے ان کی توقعات سے کہیں زیادہ مشکل صورتحال پیدا کردے، جس سے نمٹنا صدر آصف علی زرداری کے شاطر پن کے لیے ایک بڑا چیلینج ہوگا۔



















