متحدہ پی پی پی تاریخ

یوسف رضا گیلانی اور بابر غوری(فائل فوٹو)
    • مصنف, ارمان صابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی مومنٹ نے ایک بار پھر حکومت میں شامل رہنے کے معاملے پر سوالیہ نشان لگایا ہے اور ایک بار پھر ایم کیو ایم کی برہمی کی وجہ صوبۂ سندھ کے وزیرِداخلہ ذوالفقار مرزا کا بیان ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں لیاری میں سرگرم تنظیم پپلز امن کمیٹی کو پپلزپارٹی کا حصہ قرار دیا ہے۔ ذوالفقار مرزا کے بیان کے ردعمل پر ایم کیو ایم نے نہ صرف سندھ اسمبلی کے پیر کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا بلکہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ ان حالات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ نہیں چلا جاسکتا۔

یہ پہلی بار نہیں کہ ایم کیو ایم اپنی حلیف حکمراں جماعت پاکستان پپلزپارٹی سے روٹھی ہوئی ہے اور پپلزپارٹی ہمیشہ کی طرح سوچ رہی ہے کہ انہیں کیسے منایا جائے۔

اس سے پہلے متحدہ قومی مومنٹ نے رواں برس دو جنوری کو حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان حکومت کی جانب سے پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد احتجاجاً کیا گیا تھا۔ لیکن پانچ روز بعد ہی وزیرِاعظم کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کے اعلان کے بعد ایم کیو ایم کا رویہ نرم ہوگیا۔

کراچی میں متحدہ کے سیاسی مرکز نائن زیرو میں وزیرِاعظم کی آمد اور وہاں سے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے ٹیلی فون پر گفتگو اور رابطہ کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کے بعد ایم کیو ایم نے حکومت سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل صوبۂ سندھ کے وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا کے ایک متنازعہ بیان کے بعد گزشتہ برس اٹھائیس دسمبر کو ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا تاہم قومی اسمبلی میں وہ سرکاری بنچوں سے علیحدہ نہیں ہوئے۔ صوبۂ سندھ میں صوبائی حکومت میں ایم کیو ایم حکمراں جماعت پپلزپارٹی کے ساتھ بدستور شامل رہی۔

گزشتہ برس تین نومبر کو ایم کیو ایم مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کر کے قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کرگئی تھی۔ ایم کیو ایم سمیت حکومت کی حلیف جماعتوں کو پپلزپارٹی سے شکوہ تھا کہ وہ انہیں اہم فیصلوں میں اعتماد میں نہیں لیتی۔

پچھلے سال مئی کے اوائل میں ایم کیو ایم اور پپلزپارٹی میں اُس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ضلع حیدرآباد کی پرانی حیثیت بحال کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم بعد میں وزیراعظم کی یقین دہانی کے بعد کہ حیدرآباد کی موجودہ حیثیت بحال رہے گی، ایم کیو ایم اور پپلزپارٹی کے درمیان کشیدگی ختم ہوگئی تھی۔

گزشتہ برس جنوری میں کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے پے درپے واقعات پر ایم کیو ایم نے احتجاج بلند کیا تھا۔ اِن واقعات کے تناظر میں پپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں دو وزراء کے بیانات کے بعد ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کیے۔ جس کی وجہ سے دونوں جماعتوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور بعد میں پپلزپارٹی کی اعلٰی قیادت کی جانب سے مصالحت کرائی گئی۔

متحدہ قومی موومنٹ کی وفاقی کابینہ میں شمولیت کے بعد حکمران پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان وفاق میں شراکت اقتدار کا اہم مرحلہ جنوری سنہ دوہزار نو میں طے پایا تھا۔ اس سے پہلے دونوں جماعتوں میں مرکز میں شراکت اقتدار پر اتفاق نہیں ہو پا رہا تھا جس کے باعث نومبر سنہ دوہزار آٹھ میں جب وفاقی کابینہ میں توسیع ہوئی تھی تو ایم کیو ایم کے کسی وزیر نے حلف نہیں اٹھایا تھا۔

پپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ انیس سو اٹھاسی میں بھی ایک دوسرے کی اتحادی جماعتیں رہی ہیں مگر ان کا اتحاد ایک سال بھی نہیں چل سکا تھا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم آئندہ عام انتخابات میں اپنے ووٹروں کے پاس حزبِ اختلاف کی جماعت کے طور پر جانا چاہتی ہے اور اِسی لیے یہ عین ممکن ہے کہ وہ آئندہ انتخابات سے کافی پہلے حکمراں جماعت سے علیحدگی اختیار کر لے۔