’يونيفيکيشن بلاک کے نو ارکان طلب‘

پاکستان کے اليکشن کميشن نے مسلم ليگ قاف کي درخواست پرسماعت کے دوران سپيکر پنجاب اسمبلي اور يونيفيکيشن بلاک کے نو ارکان کو انیس مارچ کو طلب کر ليا ہے۔
انتخابی کميشن کے ذرائع کے مطابق چيف اليکشن کمشنرحامد مرزا نے (ق) ليگ کی درخواست کي سماعت کي اور يونيفيکيشن بلاک کے ان اراکين اورسپيکر پنجاب اسمبلي کو انیس مارچ کوحاضري کے لیے نوٹسزجاري کیے گئے ہیں۔
<link type="page"><caption> ’یونیفیکشن گروپ نااہلیت کی زد میں آتا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110227_aitzaz_defection_si.shtml" platform="highweb"/></link>
مسلم ليگ قاف نے يونيفيکيشن بلاک اورسپيکر پنجاب اسمبلي کے خلاف اليکشن کميشن آف پاکستان کو کارروائي کے لیے درخواست دي تھي جس کي ابتدائي سماعت کے بعد چيف اليکشن کمشنرنے اگلي سماعت کےلیے 19 مارچ کي تاريخ مقرر کي ہے۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ قاف اور حزب اختلاف کے رہنما چوہدری ظہیر الدین نے اپنی جماعت کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے پندرہ اراکین کو یونیفیکیشن بلاک بنانے پر اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے تھے۔
بعد میں ان کے خلاف ریفرنس انتخابی کمیشن کو روانہ کیا گیا جس پر یہ کارروائی عمل میں آئی ہے۔
باغی گروپ کو اس کی درخواست میں صوبائی اسمبلی میں علیحدہ نشستیں پندرہ فروی کو الاٹ بھی کر دی گئی تھیں۔ اس کے بعد اس بلاک نے قائد حزب اختلاف کے عہدے کے لیے بھی کوششیں شروع کر دیں۔
ابتدائی طور پر چوالیس اراکین پر مشتمل یہ گروپ فروری کے اوائل میں وجود میں آیا۔ اس گروپ نے طاہر علی جاوید کو سربراہ مقرر کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض لوگوں کے خیال میں یہ گروپ پیپلز پارٹی سے جان چھڑانے کی کوشش میں مصروف صوبے میں حکمراں مسلم لیگ نون کی حمایت سے قائم کیا گیا ہے۔
اس کا بظاہر مقصد مسلم لیگ نون کی حکومت کو پیپلز پارٹی کے جانے کے بعد قائم رکھنا ہے۔



















