یہ تیسرا ایٹم بم ہے جو جاپان پر گرا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
لگتا ہی نہیں یہ وہی قوم ہے جو دو سو برس پہلے تک ان سمورائی جنگجو سرداروں کے تابع تھی جنہوں نے پورے ملک کو مولا جٹ نامی پنجابی فلم میں تبدیل کررکھا تھا۔گمان ہی نہیں ہوتا کہ یہ وہی نسلی گروہ ہے جو خود کو سورج دیوتا کی اولاد اور تمام ایشیائی اقوام کو اپنے سے نیچ سمجھتا تھا۔ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ وہی ملک ہے جس نے سو برس پہلے اپنے ہمسائے کوریا کو ایک قحبہ خانے میں تبدیل کردیا تھا۔
شائبہ تک نہیں ہوتا کہ اس ملک کی فوج اتنی خونخوار تھی جس نے سنہ تیس کے عشرے میں چین کے علاقے مانچوریا کو ایک قبرستان میں بدل دیا تھا اور ناکنگ شہر کی ایک ملین آبادی کو ٹکٹکی پر چڑھا دیا اور پھر دوسری عالمی جنگ میں فلپینز سے برما تک کے علاقے کو ایک بڑے سے بیگار کیمپ میں بدل کرکے پوری پوری آبادیوں کو قلی بنا ڈالا۔ تصور میں ہی نہیں آسکتا کہ یہ وہی ملک ہے جو جنگ کے خاتمے تک خود بھی راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ قوم پوری طرح برباد ہونے کے بعد انتقام کی آگ میں جلتی رہتی اور ان تمام ممالک سے چن چن کر بدلہ لینے کی سوگند کھاتی جنہوں نے اسے شکست اور ذلت کے غار میں دھکیل دیا۔ لیکن اس قوم نے اپنی شکست کا انتقام بھی بڑے عجیب طریقے سے لیا۔ فوج کو توڑ ڈالا۔ ہتھیار پگھلا دیے۔سائنس و ٹیکنالوجی کو مذہب کر لیا۔ پورا معاشرہ اگلے پچیس برس میں کپڑے جھاڑ کر نہ صرف دوبارہ کھڑا ہوگیا بلکہ امریکہ سمیت پوری دنیا کو اپنی معجزاتی معاشی ترقی کی نتھ ڈال دی۔
وہ جو کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کا اصل چہرہ دکھ اور سکھ کی کیفیت میں سامنے آجاتا ہے۔
اس سے شدید زلزلہ کبھی نہیں آیا۔ایسی تباہی تو صرف فلموں میں دکھائی جاتی ہے۔ گذشتہ چھپن برس میں یہ تیسرا ایٹم بم ہے جو جاپان پر گرا ہے۔ پھر بھی تین روز کے دوران جاپان میں لوٹ مار کی کوئی واردات نہیں سنی گئی۔ کہیں سے عمومی بھگدڑ کی اطلاع نہیں آئی۔ کوئی احتجاجی جلوس نہیں نکلا۔ کسی گاڑی نے ٹریفک سگنل نہیں توڑا۔ کہیں قطار نہیں ٹوٹی۔ کسی نے کسی سے خوراک نہیں چھینی۔ کسی نے حکومت کی امدادی کوششوں پر تنقید نہیں کی۔ بال کی کھال نکالنے والا عالمی میڈیا جاپانیوں کی امدادی سرگرمیوں اور انسانی حوصلے کے معیار کا قصیدہ خواں ہے۔ جو جہاں جو بھی کرسکتا ہے جٹا ہوا ہے۔
اب تو شک ہونے لگا ہے کہ جاپانی کہیں واقعی سورج دیوتا کی ہی اولاد نا ہوں!!!















