ہنگو: مسافر بس پر حملہ، آٹھ ہلاک

وقت اشاعت

صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ہنگو میں شدت پسندوں نے ایک مُسافر گاڑی پر حملہ کر کے آٹھ افراد کو ہلاک جبکہ سات کو زخمی کردیا ہے۔

پولیس کی جوابی کارروائی میں بھی تین شدت پسند مارے گئے ہیں۔

ہنگو میں پولیس اہلکار واجد عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صُبح ہنگو سے کوئی چالیس کلومیٹر دور تھانہ دوابہ کے علاقے مامو خوڑ میں ایک چیک کے قریب مُسلح شدت پسندوں نے ایک مُسافر گاڑی پر اس وقت حملہ کیا جب وہ قبائلی علاقے پاڑہ چنار سے ہنگو آر ہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ حملے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔ اہلکار کہنا تھا کہ حملے کے بعد چیک پوسٹ پر موجود اہلکاروں نے شدت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس جوابی کارروائی میں تین شدت پسند مارے گئے۔

لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شدت پسندوں کا تعلق کس گروپ سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گاڑی میں سوار ہلاک ہونے مُسافروں کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا جن کی لاشوں کو واپس پاڑہ چنار روانہ کردیا گیا ہے۔

نامہ نگار دلاورخان وزیر کے مطابق کرم ایجنسی میں شیعہ اور سنی قبائل کے ایک مشترکہ امن جرگہ کی کوششوں سے فروری میں تمام سڑکیں پہلی مرتبہ عام ٹریفک کےلیے کھول دی گئی تھیں۔

سڑکیں کھولنے کے موقع پر شیعہ اور سنی قبائل ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے اور ’شیعہ سنی بھائی بھائی‘ کے نعرے بھی لگائے گئےتھے۔

یاد رہے کہ شیعہ اور سُنی قبائل نے ٹل پارہ چنار شاہراہ کو ایک دوسرے کےلیے چار سال سے بند کردی تھی۔ اس بندش کی وجہ سے شیعہ اور سنی قبائل کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ بعد میں کچھ عرصہ تک پارہ چنار سے سکیورٹی فورسز کی حفاظت میں قافلوں کی آمد و رفت جاری رہی لیکن ان پر بھی متعدد بار حملے ہوئے اور ان میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔

اس کے علاوہ افغانستان کے راستے سے جانے والے قافلوں کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔ سڑکوں کی بندش میں جب شدت آئی تو کچھ وقت تک لوگ پارہ چنار سے پشاور نجی و سرکاری ہیلی کاپٹروں اور طیاروں میں سفر کرتے رہے۔