’سندھ اسمبلی میں چوہدری نثار پر تنقید‘

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیر کو بھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی پر تنقید کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ وہ استحقاق کمیٹی کے روبرو پیش ہوں۔
چوہدری نثار علی نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں صدر آصف علی زرداری اور سندھ اسمبلی میں قومی احستاب بیورو کے چیئرمین دیدار شاہ کی برطرفی پر تقاریر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
پیپلز پارٹی کے دو اراکین عمران لغاری اور سلیم خورشید کھوکھر نے تحریک استحقاق پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ چوہدری نثار علی نے اپنی پریس کانفرنس میں سندھ اسمبلی کے اراکین کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں اور سندھ کی ثقافت کی توہین کی ہے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔
اس موقعے پر عمران لغاری کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی آمریت کی پیداوار ہیں وہ ایک منتخب صدر پر تنقید کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چودھری نثار نے اسمبلی اراکین کو باؤنسر کہا ہے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں، ان کے مطابق سندھ اسمبلی کے اراکین لندن کے نائٹ کلبوں میں نہیں گئے اور نہ کوئی یونیفیکشین بلاک بنایا ہے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کا مطابق اقلیتی رکن اسمبلی سلیم خورشید کھوکھر کا کہنا تھا کہ سندھی ٹوپی اور اجرک پر تنقید کرکے سندھی تہذیب کی توہین کی گئی ہے، چوہدری نثار پنجاب اور سندھ کی عوام کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔
سینیئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی پاکستان کی ماں ہے، بقول ان کے ٹوپی اور اجرک کے نام پر سندھ میں قتل و غارت ہو جاتی ہے یہ غیرت کی نشانیاں ہیں، چودھری نثار نے ان پر وار کیا۔
اس سے قبل جمعے کو سندھ اسمبلی میں چودھری نثار کے خلاف قرار داد منظور کی تھی، جس میں صوبائی اسمبلی کے اراکین نے قومی اسبملی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی سید دیدار شاہ کے حوالے سے پٹیشن پر ناراضی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ چوہدری نثار کے جانبدرانہ اور تعصب پرست رویے سے صوبائی ہم آہنگی کو نقصان پہنچ رہا ہے جس سے جمہوری نظام کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















