’محفوظ شہروں کے منصوبے پر جواب طلب‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسلام آباد اور پشاور کو دہشت گردی سے محفوط شہر بنانے کے حوالے سے تئیس کروڑ ڈالر کی لاگت سے شروع ہونے والے منصوبے سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اُن سے پچیس مارچ تک جواب طلب کر لیا ہے۔
عدالت نے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کو بھی آئندہ سماعت پرطلب کرتے ہوئے اُنہیں اس منصوبے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے یہ حکم شاہد اورکزئی کی درخواست پر دیا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت نے وزارتِ داخلہ کی سفارشات کی روشنی میں قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئےدو سو تینتیس ملین ڈالر کے اسلام آباد اور پشاور کو ’محفوظ شہر‘ بنانے کے منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت اسلام آباد میں ایک سو چوبیس اور پشاور میں ایک سو نو ملین ڈالر کی لاگت سے جدید سازوسامان خریدا جائے گا۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ نے اس سلسلے میں جدید سازو سامان کی مارکیٹ سے زیادہ قیمت پر خریداری سے متعلق پلاننگ کمیشن نے جو اعتراضات اُٹھائے تھے اُس کو بھی نظر انداز کیا۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی چھان بین کے لیے وزیر اعظم نے ایک کمیٹی بھی بنائی تھی جنہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد کو محفوظ شہر بنانے کے لیے اٹھہترملین ڈالر درکار ہیں جبکہ اس کے باوجود چین کی کمپنی کو بغیر ٹینڈر کیے ہوئے اس منصوبے کا ٹھیکہ دو سو تینتیس ملین ڈالر میں دے دیا گیا۔
اُنہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیرِاعظم کی جانب سے قائم کی جانے والی کمیٹی کی رپورٹ کی تفصیلات کے علاوہ چینی کمپنی کو دیے جانے والے ٹھیکے کی تفصیلات بھی طلب کی جائیں کیونکہ عدالتِ عظمی کی مداخلت سے پہلے مرحلے میں چھیالیس ملین ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد میں شروع کیے گئے منصوبے میں وفاقی حکومت کی حیثیت کو چیلنج نہیں کر رہے تاہم وفاقی حکومت نے اس منصوبے کو شروع کرنے سے متعلق صوبائی حکومت کی رضامندی حاصل نہیں کی۔
اُنہوں نے کہا کہ پشاور کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے اور وفاقی حکومت صرف اُس وقت ہی یہ منصوبہ شروع کرسکتی ہے جب صدر کی طرف سے ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں بڑے پیمانے پر کمیشن لینے سے متعلق خبریں بھی شائع ہوئی ہیں ۔
عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اس درخواست میں اُٹھائے گئے نکات پر پچیس مارچ تک تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے۔



















