ریمنڈ کی رہائی کے خلاف احتجاج

وقت اشاعت

پاکستان کے مختلف شہروں میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے دو پاکستانیوں کے قاتل امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں جبکہ جماعتِ اسلامی اور تحریکِ انصاف نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

ریمنڈ کی رہائی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جمعرات کو عدالتی فیصلہ آنے کے چند گھنٹے بعد ہی شروع ہوگیا۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اس حوالے سے جماعتِ اسلامی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکنِ قومی اسمبلی محمد حسین محنتی، ایم پی اے نصراللہ شجیع اور دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس قومی مجرم تھا نہ کہ کسی خاندان کا مجرم۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی دنیا کے اندر اپنا آزاد وجود کھوچکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پورے ملک پر خاندان غلامان امریکہ کی حکومت ہے، پھر چاہے وہ مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پیپلز پارٹی یا ایم کیو ایم کیوں نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور شہباز شریف کی حکومت نے مل کر پاکستان کے خلاف ایک سازش کی ہے جو غداری کے مترادف ہے۔ ’اب ریمنڈ ڈیوس جیسے مجرموں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ جسے چاہئیں ماریں انہیں ہاتھ لگانے والا کوئی پاکستانی موجود نہیں ہے‘۔

مقررین نے یہ بھی کہا کہ حکمران اور ایجنسیاں یہ دعوے کرتی رہی تھیں کہ ریمنڈ ڈیوس کی آڑ میں سی آئی اے کا ایک پورا نیٹ ورک کام کر رہا ہے مگر اسے چھوڑ دیا گیا۔

جماعت اسلامی کی جانب سے جمعرات اور تحریکِ انصاف کی جانب سے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

لاہور سے نامہ نگار عباد الحق کے مطابق ریمنڈ کی رہائی کی خبر آنے کے بعد لاہور پریس کلب کے سامنے تحریکِ نصاف اور جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے امریکی اور پاکستانی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

مظاہرین نے امریکن قونصلیٹ کی جانب جانے کی کوشش بھی کی لیکن پولیس کی بھاری نفری نے انہیں روک لیا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں اور احتجاج کرنے والوں میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کر کے انہیں منتشر کر دیا۔

کراچی اور لاہور کے علاوہ دارالحکومت اسلام آباد میں بھی نیشنل پریس کلب کے سامنے جماعتِ اسلامی کے رہنما اور کارکن جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔