کوئٹہ: دھماکے، فائرنگ پانچ افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور صوبے کے دیگرعلاقوں میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں چار سیکورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ تیرہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعرات کے روز کوئٹہ کے سریاب روڈ پر بادینی چوک کے قریب اس وقت ایک زور دار دھماکہ ہوا جب فرنٹیئرکور کی گاڑیاں دوران گشت وہاں سے گز رہی تھیں۔
دھماکے کے نتیجے میں ایف سی کے اہلکار محمد سیعد ہلاک ہوئے جبکہ چار عام شہر ی زخمی ہوئے ہیں۔ ان کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ لایاگیا جہاں ڈاکٹروں نے زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔
کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان مرتضٰی بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ میں ایف سی کی ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے تاہم دیگر ایف سی کے اہلکار محفوظ رہے۔
بم دھماکے کے بعد سریاب پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی نے ابھی تک اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے چھتر کے مقام پر جمعرات کی صبح سیکورٹی فورسز کی ایک گاڑی گشت پر تھی کہ پٹ فیڈر کے علاقے میں نامعلوم افراد کی جانب سے سڑک کے کنارے نصب ریمورٹ کنٹرول بم سے دھماکہ ہوا جس میں ایف سی کے دو اہلکار کلیم اللہ اور غلام سرور موقع پر ہلاک جبکہ سات اہلکار زخمی ہوئے۔
ڈیرہ مراد جمالی سے مقامی صحافی شریف منگی کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی لایاگیا جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد انہیں سبی منتقل کردیا۔
اس کے علاوہ ضلع جعفرآباد کے دولت پور کے قریب بعض نامعلوم مسلح افراد نے بدھ اور جمعرات کی درمیابی شب پولیس کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں ایک پولیس کانسٹیبل اخترحسین ہلاک اور دو اہلکارزخمی ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جعفرآباد کے ضلعی پولیس آفسر محمد طارق کے مطابق پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوا ہے جس کی لاش شناخت کے لیے سول ہسپتال ڈیرہ اللہ یار میں رکھ دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ چھ سال قبل اسی دن یعنی سترہ مارچ کو سابق صدر جنرل پر ویز مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوجی آپریشن کاآغاز ہوا تھا۔اس آپریشن کے نتیجے میں چھبیس اگست سال دوہزار چھ کو بلوچ سردار نواب محمد اکبربگٹی ہلاک ہوئے تھے۔
بلوچ قوم پرستوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس فوجی آپریشن کے دوران آٹھ ہزار سے زیادہ بلوچ نوجوان لاپتہ ہوئے ہیں جن میں سے اب تک سو کے قریب لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔



















