مصر: آئيني اصلاحات منظور

،تصویر کا ذریعہReuters
مصر میں ووٹروں کي ايک واضح اکثريت نے صدر کے عہدے کي معياد اور ديگر آئيني تراميمي کو بھاري اکثريت سے منظور کر ليا ہے۔
پانچ ہفتے قبل عوامی احتجاج کے دباؤ میں تين عشروں سے صدارتي عہدے پر فائز رہنے والے حسني مبارک کي اقتدار سے عليحدگي کے بعد پہلا ريفرنڈم تھا جسے عوام کي بھاري اکثريت نے قبول کر ليا۔ ريفرنڈم میں ووٹوں کي شرح اکتاليس فيصد رہي۔
ريفرنڈم ميں منظور کي جانے والی آئيني تجاويز کے مطابق کوئي شخص دو سے زيادہ بار صدراتي عہدے پر فائز نہیں رہ سکے گا ۔
صدر حسني مبارک کے خلاف احتجاج کرنے والے بعض افراد اور گروہ ريفرنڈم کي مخالفت کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پورے آئين کو ازسر نو لکھا جائے۔ امريکہ نے ريفرنڈم پر مصري عوام کو مبارکباد پيش کي۔
مصر رواں سال آوخر ميں صدارتي اور پارليماني انتخابات ہونے ہیں۔
عوام کی بھاری اکثریت نے صدارتي اختيارات میں کمي ، عدلیہ کو مضبوط اور سياست کو شفاف بنانے کی تجاویز کو قبول کیا ہے۔















