کان دھماکہ، بتیس لاشیں نکال لی گئیں

امدادی کارکنوں میں قریبی کانوں میں کام کرنے والے افراد بھی شامل ہیں
،تصویر کا کیپشنامدادی کارکنوں میں قریبی کانوں میں کام کرنے والے افراد بھی شامل ہیں
وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور سورینج کے مقام پر کوئلے کی کان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بتیس تک پہنچ گئی ہے۔

یہ دھماکہ پی ایم ڈی سی کے تحت چلنے والی کان میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں 53 افراد کان میں پھنس گئے تھے۔

<link type="page"><caption> دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں: ویڈیو فوٹیج دیکھے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2011/03/110321_mine_balochistan_bodies_uk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> کان میں پہنسے کاکنوں کو نکالنے کی کوششیں: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2011/03/110321_pics_coal_mine_blast_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا کہ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک چوبیس کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ اکیس افراد تاحال دبے ہوئے ہیں۔

محکمۂ معدنیات کے سیکرٹری مشاق رئیسانی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حادثے کو اڑتالیس گھنٹے سے زائد گزر جانے کے بعد آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کان میں پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔

<link type="page"><caption> کانوں میں امدادی کام مشکل ہوتا ہے: بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ کی سیربین میں گفتگو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110321_home_sec_balochistan_ha.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> کان میں میتھین گیس کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی: بلوچستان کے سیکریٹری مائن مشتاق رئیسانی کی سیربین میں گفتگو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110321_mines_home_sec_audio_ha.shtml" platform="highweb"/></link>

بلوچستان میں کوئلہ کی کان کنی بڑی صنعت ہے
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں کوئلہ کی کان کنی بڑی صنعت ہے

دوسری جانب صوبائی حکومت نے مزید کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کےلیے فوری طور پر سورینج کے علاقے میں واقع دیگر تمام سرکاری اور غیر سرکاری کانوں سے میں غیر معینہ مدت تک کے لیے کوئلہ نکالنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس مقصد کے لیے سکیورٹی فورسز کو علاقے میں تعینات کر دیاگیا ہے۔

امدادی کام میں زیادہ تر ان کان کنوں سے کام لیاجا رہا ہے جو قریب کے کانوں میں کام کرتے ہیں لیکن چیف انسپکٹر مائنز محمد افتخار کا کہنا ہے کہ کان میں ابھی تک گیس موجود ہے جس کی وجہ سے امدادی کام متاثرہو رہا ہے۔

کوئٹہ میں وزیراعلٰی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے سیکرٹری معدنیات کو فوری طور پر واقعہ کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ صوبائی وزیر معدنیات عبدالرحمن منگل نے واقعہ کی ذمہ داری پی ایم ڈی سی کی انتظامیہ پر عائد کرتے ہوئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ایک ماہ کے اندر حکومت کو رپورٹ پیش کرےگی۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کی کان کنی بڑی صنعت ہے جس سے ساٹھ ہزار افراد کا روزگار وابستہ ہے اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق خیبر پختونخواہ کے علاقوں مالاکنڈ اور سوات سے ہے۔