’گھر سے بھاگنے والی‘ خاتون عدالت میں قتل

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع بہاول پور میں مبینہ طور پرگھرسے بھاگنے والی اٹھائیس سالہ شادی شدہ خاتون کو کمرۂ عدالت میں فائرنگ کر کے قتل کردیاگیا ہے۔
یہ واقعہ بہاول پور کی ایک مقامی عدالت میں اس وقت پیش آیا جب پیشی پر آئی ہوئی خاتون کو مبینہ طور پر اس کے کزن اور بھائی نے قتل کر دیا۔ دونوں ملزمان کو مقامی پولیس نے اسلحے سمیت گرفتارکر لیا ہے۔
ملتان سے صحافی غضنفر عباس کے مطابق غفلت برتنے پر اے ایس آئی اور کانسٹیبل کو بھی حراست میں لیا گیاہے۔
بستی غریب آباد موضع جمال چنڑ کی رہائشی اٹھائیس سالہ شادی شدہ خاتون کنیز بی بی جن کی بارہ سال قبل شادی ہوئی تھی مبینہ طور پرچار ماہ قبل مبینہ طور پرگھر سے فرار ہوگئی تھی۔ کنیز بی بی نے اپنے خاوند یاسین کے خلاف تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر رکھا تھا۔
منگل کی صبح جب کنیز بی بی سول جج اورجوڈیشل مجسٹریٹ محمدجاوید خان کی عدالت میں دارالامان سے پیشی پر پہنچی تو وہاں مبینہ طور پر اُس کے کزن محمد ارشد اور بھائی عبدالرشیدنے کمرہ عدالت میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
فائرنگ کے بعد کمرۂ عدالت میں موجود افراد میں خوف و ہراس کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور دونوں ملزمان کو اسلحہ سمیت حراست میں لے لیا گیا جبکہ غفلت برتنے پر اے ایس آئی محمد عاشق اور کانسٹیبل محمداشرف کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
ریسکیو 1122کی گاڑی نے مقتولہ کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بہاول وکٹوریہ ہسپتال شفٹ کر دیا ہے۔
ملزم عبدالرشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ’ہم نے معززین علاقہ سے رابطہ کیا لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی لیکن ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ ملزم محمد ارشد نے بتایا کہ کنیز بی بی ان کی پھوپھی کی بیٹی تھی جسے انھوں نے قتل کر دیا اور انھیں اِس کا کوئی افسوس نہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















