ہنگو: خودکش حملے میں پانچ ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ایک تھانے پر خودکش حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پشاور میں ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ یہ حملہ ضلع ہنگو سے کوئی چالیس کلومیٹر دور تھانہ دوابہ میں پیش آیا۔
ڈی ایس پی دوابہ میر چمن خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا اور اس میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک اور چھ پولیس اہلکاروں سمیت چودہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد پچیس کے لگ بھگ ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ڈی پی او رشید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح گاڑی میں ایک شخص نے تھانے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق تھانے کے گیٹ پر اہلکار محمد رحیم نے اس کو روکا اور گاڑی پر فائر کیا۔ اس پر حملہ آور نے اپنی گاڑی تھانے کی عمارت کے باہر پڑی رکاوٹوں سے ٹکرا دی اور دھماکہ ہوا۔
دھماکے سے تھانے کی عمارت ، قریب واقع رہائشی کوارٹر اور مارکیٹ میں دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ڈی ایس پی چمن خان نے بتایا کے اس دھماکے میں سفید رنگ کی سنگل کیبن گاڑی استعمال کی گئی ہے جس میں بٹ ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں کے مطابق ایک سو سے ڈیڑھ سو کلو گرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔
ہنگو میں گزشتہ روز ایک سی ڈی کی دکان کو دھماکے سے تباہ کیا گیا تھا اور اس کے بعد تحقیقات کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں کی گاڑی کے قریب دھماکے سے چھ اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہنگو شہر کی ایک جانب اورکزئی ایجنسی اور دوسری جانب کرم ایجنسی واقع ہے جہاں سیکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کیے تھے۔ ہنگو اور اس کے قریب علاقے کوہاٹ میں کچھ عرصہ سے کشیدگی میں خطرناک حد تک اضاہ ہوا ہے جس میں پولیس پر زیادہ حملے کیے گئے ہیں۔



















