عشق کا کام !

کرکٹ وہ نشہ ہے جو ہر خاص و عام کو اردگرد کے جھمیلوں اور غموں سے نجات دلا دیتا ہے
،تصویر کا کیپشنکرکٹ وہ نشہ ہے جو ہر خاص و عام کو اردگرد کے جھمیلوں اور غموں سے نجات دلا دیتا ہے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ کرکٹ بھی نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔یہ وہ نشہ ہے جو ہر خاص و عام کو اردگرد کے جھمیلوں اور غموں سے نجات دلا دیتا ہے۔یہی وہ صف ہے جس میں محمود و ایاز ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ وہ زلف ہے جس کے سحر میں ہندو ، مسلمان ، سکھ، بنیاد پرست ، لبرل ، بنگالی ، گجراتی ، پٹھان ، پنجابی ، بلوچ ، ظالم ، مظلوم ، بھٹہ مزدور ، صنعت کار ، دلال ، طوائف، کرنل ، اردلی ، شرابی ، نمازی ، شریف ، بدمعاش غرض کون ہے جو مبتلا نہیں۔جس قوم کو نہ نیشنل ازم کی لئی جوڑ سکے اور نہ ہی مذہب کی سریش۔اس قوم کو بھی کرکٹ ویلڈ کردیتا ہے۔ چاہے عارضی طور پر ہی سہی۔

ہرگیند کے ساتھ ہر دل بھی ٹپہ کھاتا ہے۔ہر چوکا پاؤں میں گھنگھرو باندھ دیتا ہے۔ہر چھکا قومی تفاخر کی پگ میں نگینے کی طرح جڑ جاتا ہے اور ہر اڑنے والی وکٹ سے ملک و ملت خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

اور پھر ایک کرکٹ سے کتنے کام نکلتے ہیں۔جواریوں اور بلیکیوں کے ساتھ ساتھ مصلے، تسبیح ، صلیبیں اور مورتیاں بیچنے والوں کا کاروبار بھی چمک اٹھتا ہے۔بھگوان ، واہے گرو ، یسوع مسیح اور اللہ میاں کو ایسے ایسے موسمی عبادتی دیکھنے کو مل جاتے ہیں جنہیں ان مقدسوں نے پہلے کبھی اور کہیں نہیں دیکھا۔ پنڈت کو شلوگ میں ، پادری کو وعظ میں اور مولوی کو نماز میں لطف آنے لگتا ہے۔

شوہر کھانے میں کیڑے نکالنا بند کردیتا ہے۔بیوی کے دل سے شاپنگ کا خیال جاتا رہتا ہے۔بچے باہر کا رستہ بھول جاتے ہیں۔چپراسی باس کی پھٹکار سے بچا رہتا ہے۔مظلوم سائل فرعون کلرک کے پہلو میں بیٹھ کر تالیاں بجاتا ہے اور ٹرانزسٹر چوکیدار کے کان سے چپک جاتا ہے۔

خود کش حملہ آور اپنی جیکٹ ٹی وی کے پیچھے ٹانگ دیتا ہے ۔پولیس والے کی گالیوں کا رخ ملزم کے بجائے چوکا پڑوانے والے بالر کی طرف ہوجاتا ہے۔اغوائی سنچری کی خوشی میں تاوان کی رقم کم کردیتا ہے اور چور زیورات کے بجائے ٹی وی اٹھانے کی کوشش کرتا ہے ۔

کرکٹ دشمنی کی برف پگھلاتا ہے۔روٹھے ہوئے ملکوں کی انا نرم پڑنے لگتی ہے۔مسکراہٹوں میں زہر کم ہوجاتا ہے۔ملاقاتوں کے بہانے نصیب ہوتے ہیں۔وی آئی پی پویلین میں نگاہیں بلے پر اور گفتگو سفارت کاری کی ہوتی ہے۔

اور جب کوئی ٹیم ہارتی ہے تو غم بھی اجتماعی انداز میں منایا جاتا ہے۔گالیوں میں یکساں شدت ہوتی ہے۔تنقید کے تیر ایک ساتھ چھوڑے جاتے ہیں اور کرکٹ ٹیم ایک ساتھ یہ سب سہتی ہے۔

عجب کھیل ہے یہ کرکٹ بھی۔ہارنے پر بھی آنکھ سے آنسو اور منہ سے جھاگ نکلتے ہیں اور جیتنے پر بھی۔۔۔

جیب و دامان و گریباں ، بخیہ و چاک و رفو

عشق کے اک کام سے کتنے نکل آتے ہیں کام