کیا یہ ممکن ہے ؟

فائل فوٹو،
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
  • وقت اشاعت

اب سے بتیس برس پہلے پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم کو ان حالات میں پھانسی دی گئی کہ مقدمے کی فائنل سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کا ایک جج بیمار ہو کر سبکدوش ہوگیا۔ایک جج جس پر میٹرک کی جعلی سند رکھنے کا الزام لگایا گیا ، اپنی عافیت کے لئے ملک سے فرار ہوگیا۔

جو سات جج سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کا حصہ بنے رہے ۔ان میں سے تین نے بڑے ملزم کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا اور چار نے سزائے موت کی توثیق کردی۔عام طور سے سزائے موت کی توثیق کے بعد بھی رحم کی اپیل برسوں صدرِ مملکت کی میز پر پڑی رہتی ہے، لیکن اس کیس میں نہ بیرونی دوست حکومتوں کی اپیل پر غور کیا گیا اور نہ ہی اندرونِ ملک سے دائر اپیلوں پر کان دھرا گیا اور حتمی فیصلہ آنے کے تین ہفتے کے اندر بڑے ملزم کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

چند برس بعد جب پھانسی کی سزا کی توثیق کرنے والے بنچ کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے ضمیر کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے اعتراف کیا کہ یہ فیصلہ دباؤ کے تحت کیا گیا تھا تو اس کے بعد سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لے کر یہ مقدمہ دوبارہ کھولنا چاہئے تھا تاکہ اسقاطِ انصاف کا دھبہ دھل سکے۔ لیکن عدالت تو کجا، خود بڑے ملزم کی جماعت کو بھی مقدمے کی ریویو پیٹیشن دائر کرنے کا بتیس برس بعد حوصلہ ہوا۔

تو کیا پاکستان میں انگلستان اور فرانس کی طرح اعلیٰ عدلیہ کے کسی سابق فیصلے پر نظرِ ثانی کا کوئی قانون موجود ہے؟ قانون دان کہتے ہیں کہ اس کے لئے قانون سازی کرنی پڑے گی ورنہ تکنیکی بنیادوں پر کیس ری اوپن کرنا عدلیہ کے لئے بھی دشوار ہوسکتا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں انوسٹی گیشن سے لے کر سماعت کے مرحلے تک کرپشن اور نا اہلی کا پورا جال بچھا ہوا ہو وہاں صرف یہی ایک فیصلہ نہیں بلکہ سینکڑوں فیصلے مشکوک ہیں۔اگر نئے ثبوتوں کی بنیاد پر نظرِ ثانی کا قانون بن جائے تو سب کا بھلا ہوسکتا ہے۔ایسا قانون تاریخ کے ضمیر پر دھرا پتھر ہلکا کرنے کا کام کرتا ہے۔

ویسے، ایسے کئی ہائی پروفائل واقعات و فیصلے ہیں جو ازخود نوٹس یا ریویو کے منتظر ہیں۔

مثلاً جس طرح یحییٰ خان کو مارشل لا لگانے پر غاصب قرار دیا گیا اسی طرح کیا ایوب خان ، ضیا الحق اور پرویز مشرف بھی غاصب ہیں یا نہیں؟

جنہوں نے بھی ملک کے دو ٹکڑے کرنے میں براہ راست سیاسی و عسکری کردار ادا کیا، آیا وہ غداری کے قانون تلے آتے ہیں یا نہیں۔جنہوں نے بھی سابق مشرقی پاکستان میں غیر مسلح عام آبادی کے خلاف جرائم کئے ۔کیا وہ انسانیت کے خلاف جرائم ہیں یا نہیں؟

بلوچستان میں جو لاشیں مل رہی ہیں یا کراچی میں جو ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے کیا ان کی ذمہ داری کسی ادارے، گروہ یا فرد پر عائد کرنے کے لئے کسی عدالت کو ازخود نوٹس لینا چاہئے یا نہیں؟

اس سلسلے میں جو درخواستیں دائر ہوچکی ہیں، کیا ان پر تیز رفتار پیش رفت ضروری اور ممکن ہے کہ نہیں ؟

کیا عدالت کے رو برو غلط بیانی کوانصاف کی راہ میں رکاوٹ تصور کرکے عملاً کسی بھی پاٹے خان کو سزا دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟

کیا ہائی پرفائل واقعات اور سیاسی و عسکری اداروں کی حدود کے بارے میں برسوں پہلے دائر کردہ پیٹیشنز کو سرد خانے سے نکال کر ان میں جان ڈالی جاسکتی ہے یا نہیں ؟

اگر یہ سب کلی یا جزوی طور پر ممکن نہیں اور ایسے ہر کھٹن سوال کے جواب میں ’معروضی حالات‘ کی ڈھال ہی استعمال ہونی ہے تو پھر ڈرامے اور نوٹنکی کی بھلا کیا ضرورت ہے ؟

اٹھارہ کروڑ کا جی بہلانے اور توجہ بٹانے کے اور بھی تو دل فریب طریقے ہیں !!!!!