ڈاکٹر نبی بخش بلوچ انتقال کر گئے

پاکستان کے دانش ور ، ماہرِ تعلیم و لسانیات، ادیب اور محقق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ حرکتِ قلب بند ہو جانے کے باعث انتقال کرگئے۔ ان کی عمر چورانوے برس تھی
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کو حیدرآباد میں بدھ کی صبح دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انہیں امراض قلب کے ادارے ہلالِ احمر ہسپتال لے جایا گیا۔
مرحوم بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر، سندھ کے صوبائی وزیر اور سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین سمیت مختلف اہم مناصب پر فائز رہے ۔ وہ سندھی، عربی، فارسی، اردو، سرائیکی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔
انہوں نے دس جلدوں پر مشتمل سندھ کے صوفی شاعر شاھ عبدالطیف بھٹائی کا مجموعۂ کلام مرتب کیا۔ وہ سندھی زبان کی مختلف اصناف پر بیالیس کتابوں کے مصنف تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے چچ نامے ( تاریخ الھندو السند) کی تدوین کی۔ جامع سندھی لغات، اردو سندھی، سندھی اردو لغت، سندھ کی لوک داستانوں، قصوں، عشقیہ داستانوں، سندھی ادب، زبان اور موسیقی پر متعدد کتابیں لکھی۔
ڈاکٹر نبی بخش نے ابتدائی تعلیم سندھ میں حاصل کرنے کے بعد انیس سو اکتالیس میں بی اے آنرز بمبئی یونیورسٹی سے فرسٹ کلاس تھرڈ پوزیشن میں حاصل کیا۔ انیس سو تینتالیس میں ایم اے اور ایل ایل بی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے فرسٹ ڈویژن و فرسٹ پوزیشن میں کیا۔
ڈاکٹر نبی بخش کے حوالے سے ایک قصہ بھی مشہور ہے جو وہ اپنے احباب کو بتایا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ کولمبیا یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اپنے گاؤں پہنچے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر پہنچ گئی جن میں اکثریت مریضوں کی تھی۔
ان لوگوں نے ڈاکٹر بلوچ سے درخواست کی وہ مریضوں کا معائنہ کریں۔ انہوں نے اس سے معذرت کی جس پر لوگ ناراض ہوئے اور کہا کہ ’باہر سے ڈاکٹر بن کر آئے ہو اب بڑے آدمی بن گئے ہو‘۔ جب ڈاکٹر بلوچ نے انہیں بتایا کہ وہ تعلیم کے شعبے کے ڈاکٹر ہیں تو لوگوں میں سے کسی نے انہیں مخاطب ہوکر کہا کہ ’پھر یہ کہو نا کہ ماسٹر ہو‘۔
وہ انیس سو ترانوے کی نگراں حکومت میں سندھ کے نگراں وزیر تعلیم، زراعت اور جنگلی حیات بھی رہے ۔ نبی بخش بلوچ س نیشنل کمیشن آف ہسٹاریکل اینڈ کلچرل ریسرچ کے چیئر مین بھی رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مرحوم کو ان کی زندگی میں ہی بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں تمغہ پاکستان، ستارہ قائد اعظم، صدارتی ایوارڈ پرائیڈ آف پرفارمنس، صدارتی ایوارڈ اعزاز کمال (ایکسیلنس ایوارڈ) اور صدارتی ایوارڈ ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
مرحوم نے دو شادیاں کیں تھیں۔ تاہم ان کی دونوں بیویوں کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوگواروں میں پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
نبی بخش بلوچ کی وصیت کی روشنی میں ان کی تدفین سندھ یونیورسٹی جام شورو میں علامہ آئی آئی قاضی کے پہلو میں ہو گی۔
سندھی ادبی سنگت نے ڈاکٹر بلوچ کی وفات پر سات روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔



















