کرم ایجنسی، تین ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک پک اپ گاڑی پر ہونے والے بم حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں توری قبیلے کے ایک عالم دین بھی بتائے جاتے ہیں۔
کرم ایجنسی کے ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ واقعہ پیر کو کیڑاکئی کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب کڑمان کے علاقے سے آنے والے ایک پک اپ گاڑی سڑک کے کنارے نصب بم کا نشانہ بنی۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں توری قبیلے کے ایک عالم دین رحمت علی بھی شامل ہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ بظاہر لگتا ہے کہ یہ بارودی سرنگ کا دھماکہ تھا اور دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی گاڑی وہاں سے گزری توف اس دوران ہی دھماکہ ہوا۔
یاد رہے کہ کرم ایجنسی سے پشاور جانے والی گاڑیوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کی وجہ سے علاقے میں ایک بار پھر حالات کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔ ان حملوں کے باعث ٹل پارہ چنار شاہراہ ایک بار پھر غیر اعلانیہ طور پر بند کردی گئی ہے۔ اس سے پہلے فریقین کے مابین ایک معاہدے کے نتیجے میں ٹل پارہ چنار شاہراہ چند دنوں کے لیے کھول دی گئی تھی۔















