’ڈرون حملے بند نہیں ہوں گے، کچھ اہلکاروں کا بتائیں گے‘

ڈرون حملے جاری رہیں گے: امریکی اہلکار
،تصویر کا کیپشنڈرون حملے جاری رہیں گے: امریکی اہلکار
وقت اشاعت

امریکہ کےخفیہ ادارے سی آئی اے نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے قریبی اتحادی و معاون پاکستان سے اپنے بگڑتے ہوئے تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں کے بارے میں’ کچھ‘ معلومات فراہم کرنے اور ڈرون حملوں میں تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کو روکنے یا محدود کرنے کی کوئی تجویز یا منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی امریکی خفیہ ایجنسی سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں تعینات اپنے ایجنٹوں کی تعداد میں کمی کرے۔

سی آئی اے کی طرف سے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو یہ ’معمولی‘ رعایتیں ایک ایسے وقت دی گئی ہیں کہ جب سی آئی اے اور آئی ایس آئی میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف جاری جنگ کے دائرہ کار اور اس کی سمت پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے خفیہ اداروں کے درمیان تناؤ کا شکار تعلقات چار گھنٹے طویل ملاقات کا بڑا موضوع تھے جو واشنگٹن میں سی آئی اے کے ہیڈکواٹر میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون ای پنیٹا اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل احمد شجاع پاشا کے درمیان ہوئی۔

ملاقات کے بعد دونوں طرف سے مکمل اتفاق رائے کا تاثر دیا گیا لیکن اس طرح کے اشارے بھی ملے ہیں کہ اہم معاملات میں دونوں میں اختلافات کم نہیں ہو سکے۔

اخبار نے ایک اعلیٰ پاکستان اہلکار جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے کے حوالے سے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کو اس وقت تک روک دینے کا فیصلہ ہوا ہے جب تک دونوں فریق نئے ضوابط پر متفق نہ ہو جائیں اور جس کے بعد سی آئی اے کے ڈرون حملے کم کر دیئے جائیں۔

پاکستان اہلکار کا کہنا تھا کہ ان ڈرون حملوں میں زیادہ تر طالبان اور القاعدہ کے ’پیادے‘ یا نچلی سطح کے کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے سی آئی اے پر الزام لگایا کہ وہ ہلاک ہونے والوں کے بارے میں بلند و بانگ دعوے کرتی ہے تاکہ ان حملوں کا جواز مہیا کیا جا سکے اور اکثر کہا جاتا کہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والا بم بنانے کا ماہر تھا یا طالبان ’آئی ٹی ایکسپرٹ‘ تھا۔

سی آئی اے کے ایک اہلکار کے حوالے سےاخبار لکھتا ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا احمد شجاع پاشا نے باضابط طور پر ڈرون حملوں کو روکنے کی درخواست کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں ان لفظوں میں نہیں۔‘

امریکی اہلکارنے جسے سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے سربراہان کی ملاقات سے بریفنگ ملی تھی، واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ماسوائے اس کے پاکستان کو ڈرون حملہ کرنے کا فیصلے کی وجوہات سے متعلق مطلع کیے جائے گا، قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ہے۔

اہلکار نے کہا کہ سی آئی اے کے سربراہ کو امریکی شہریوں کا دفاع کرنا ہے اور وہ کسی ایسے آپریشن کی ختم نہیں کریں گے جو امریکی شہریوں کے تحفظ میں مدد گار ہو گا۔

امریکی اہلکار نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے پاکستان میں سی آئی اے کے اہلکاروں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ’یہ معاملہ زیر بحث ہی نہیں آیا ہے‘۔ البتہ سی آئی اے نے اپنے کچھ اہلکاروں کے نام اور ان کی خفیہ ذمہ داریوں سے متعلق پاکستان کو معلومات فراہم کرنے پر رضامندی کی ہے اور اس کی وجہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کی وجہ سے پاکستان میں پائے جانے والے غم و غصے کو کم کرنا ہے۔

نئے ضوابط کے مطابق سی آئی اے پاکستان میں اپنے ٹھیکیداروں سے متعلق معلومات اور سی آئی کے کچھ عہدیداروں اور ان کے خفیہ آپریشنز کی معلومات پاکستان کو فراہم کرے گا۔

پاکستان نے ریمنڈ ڈیوس کے واقع کے بعد پاکستان میں ایسے امریکی ٹھیکیداروں کےخلاف کارروائی کی جس کے بارے اس یقین ہے کہ وہ ایسے گروہ کے ممبر ہیں جو پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ پاکستان نے پشاور میں بیس امریکی باشندوں کو روک کر ان سے تفتیش کی ہے اور ان سے پاکستان میں قیام کی وجوہات دریافت کی ہیں۔

ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے اگلے روز ہی شمالی وزیرستان میں ایک جرگے پر ڈرون حملے نے پاکستان حکام کو سیخ پا کر دیا۔

ایک پاکستانی اہلکار نے واشنٹگن پوسٹ کو بتایا ہے ’ہم نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرا کے ایک معجزہ دکھایا لیکن ہمیں اگلی صبح ہی ڈرون حملے کی شکل میں شکریہ کا پیغام ملا۔ ڈرون حملہ بھی ان پر کیا گیا جو سکیورٹی فورسز کی مدد کر رہے تھے۔‘