’ثقافتی خلیج کم کرنے کی کوشش‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
امریکہ اور پاکستان کے درمیان ثقافتی خلیج کم کرنے کے لیے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ثقافتی رابطہ مہم شروع کر دی ہے۔
اس مہم کے تحت گزشتہ کچھ عرصے سے سیاستدانوں، صحافیوں اور طالب علموں کے بعد اب نوجوان گلوکاروں اور فنکاروں کو امریکی عوام میں روشناس کرانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔
امریکہ کے پرفارمنگ آرٹ کے ادارے اور حکومتی اشتراک سے یہ پروگرام شروع کیا جارہا ہے جو اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے۔
اس پروگرام میں پاکستان کے گلوکاروں اور اداکاروں کو امریکہ میں پرفارم کرنے کا موقعہ دیا جائے گا۔
امریکہ کی پرفارمنگ آرٹ کی تنظیموں کے وفد نے کراچی اور اسلام آباد کا دورہ کیا اور مختلف فنکاروں، شاعروں اور دیگر شخصیات سے ملاقات کی۔
اس وفد کی سربراہی پرفارمنگ آرٹس کے ادارے لیزا بوتھ مینجمنٹ کارپوریشن کی وائس چیئرمین ڈیڈری ویلنٹی کر رہی تھیں جبکہ ارکان میں ریشیئل کووپر ڈائریکٹر کلچرل پروگرام اینڈ پرفارمنگ آرٹس ایشیا سوسائٹی، اسد جعفری انرسٹی مسلم ایکشن نیٹ ورک، لورا پال چیف افسر نیو انگلینڈ فاؤنڈیشن فار آرٹس شامل تھے۔
ڈیڈری ویلنٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’موسیقی اور فن دو ایسی زبانیں ہیں جو تمام سرحدیں عبور کرکے لوگوں کو متحد کرتی ہیں۔ اس لیے ہم نے اپنے پائلٹ پراجیکٹ کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے گلوکاروں اور اداکاروں کا اعلان رواں سال جون میں کیا جائے گا اور یہ وفد مئی دو ہزار بارہ میں امریکہ کا دورہ کرے گا جس کی ابتدا واشنگٹن میں کینیڈی سینٹر سے ہوگی، جس کے بعد وہ مختلف ریاستوں اور درسگاہوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیڈری ویلنٹی کے مطابق ہم میوزک، ڈانس اور تھیٹر میں ابھرتے ہوئے فنکاروں اور نوجوان ٹیلنٹ کو ویسٹرن کلچر میں پیش کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی آرٹسٹوں کو امریکی آرٹسٹوں اور عوام سے خیالات، موسیقی اور ویژن کا تبادلہ کرنے کا موقعہ ملے گا، اس سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں کافی مدد ملے گی۔
امریکی قونصل خانے کراچی کی انفارمیشن افسر اینڈی ڈیئرمنٹ کا کہنا ہے کہ ثقافتی تبادلوں کے پروگراموں کے نتائج کی پیمائش ایک مشکل کام ہے۔
’جب آپ کسی پروگرام میں شریک ہوتے ہیں تو آپ اور نہ ہی شرکاء یہ سوچ سکتے ہیں کہ اُن کی سوچ میں تبدیلی کیسےآئی۔ ایسے پروگراموں سے حکومت کا حکومت کے ساتھ اور عوام کا عوام سے بھی رابطہ رہتا ہے جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔‘
اینڈی کے مطابق امریکہ کثیر الثقافتی ملک ہے وہاں کی سول سوسائٹی مختلف زبانوں، تہذیبوں اور لوگوں سے رابطے بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ کوئی اور زبان سمجھنے میں مشکل ہوسکتی ہے مگر آرٹ اور خاص طور پر موسیقی کو تو آپ محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے امریکی عوام ایسی چیزوں کے لیے بے قراد رہتی ہے۔



















