’نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر صرف سابق وزیر اعظم کی پھانسی کے مقدمے کو سامنے رکھا گیا تو جن مقدمات میں عدالت نے مختلف لوگوں کو پھانسیاں دی ہیں وہ بھی عدالت میں درخواست کر سکتے ہیں کہ اُن کے مقدمات میں جج تعصب رکھتے تھے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اس طرح سپریم کورٹ میں درخواستوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا کہ اُن کے مقدمات میں عدالتی فیصلوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے مقدمے کے سلسلے میں دائر کیے جانے والے صدارتی ریفرنس میں کچھ خامیاں ہوسکتی ہیں جن کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اس ریفرنس میں عدالتی فیصلے کا ازسر نو جائزہ لینے کے بارے میں کہا گیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا جائزہ صرف ایک فیصلے کا لیا جائے حالانکہ اس مقدمے میں تین فیصلے کیے گئے تھے جن میں سے ایک لاہور ہائی کورٹ کا جبکہ دو فیصلے سپریم کورٹ نے کیے تھے۔
سرکاری وکیل بابر اعوان نے پاکستان بار کونسل میں اپنے وکالت نامے کا تجدیدی لائسنس عدالت میں پیش کیا۔ اُنہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قتل کے مقدمے میں پانچ ملزمان تھے جن میں سے صرف ذوالفقار علی بھٹو کو اعانت کے مقدمے میں مجرم گردانتے ہوئے پھانسی دی گئی۔
اُنہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جج مولوی مشتاق ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تعصب رکھتے تھے۔ بینچ میں شامل جسٹس غلام ربانی نے استفسار کیا کہ کیا عدالت مولوی مشتاق کے رویے کا از سرنو جائزہ لے سکتی ہے جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عدالت کے پاس اس بات کا اختیار ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی مقدمے میں کسی وعدہ معاف گواہ کے بیان پر کسی کو پھانسی نہیں دی گئی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی بھی مقدمے میں شہادتوں کا از سرنو جائزہ لینا کیا آئین کے آرٹیکل ایک چھیاسی کے زمرے میں آتا ہے جس میں صدر عدالت کو کوئی ریفرنس بھیج سکتے ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنہوں نے کہا کہ عدالت کو قانون کے مطابق اس معاملے پر رائے دینی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس ریفرنس کا مسودہ کسی ڈرافٹ مین نے ہی تیار کیا ہے اس لیے اس میں خامیاں رہ گئی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس ریفرنس میں عدالت سے جس قانون کے بارے میں پوچھا گیا ہے وہ واضح نہیں ہے۔
عدالت نے بابر اعوان سے اس صدارتی ریفرنس میں وزیر اعظم کی مشاورت کے بارے میں بھی پوچھا جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا تھا جنہوں نے متفقہ طور پر اس ریفرنس کو دائر کرنے کی منظوری دی تھی۔
سرکاری وکیل نے اپنے دلائل میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی کتاب کا بھی حوالہ دیا جس میں اُنہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں اعتراف کیا گیا ہے کہ اُن پر اُس وقت کی فوجی قیادت کا دباؤ تھا حالانہ وہ ایڈہاک جج تھے۔
عدالت نے اُنہیں کہا کہ وہ یہ حوالہ جات اپنے حتمی دلائل میں دیں۔
عدالت نے بابر اعوان سے کہا کہ اُنہیں جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے عدالت اس معاملے کو صرف اندزوں پر نہیں دیکھنا چاہتی بلکہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اس معاملے کو نمٹایا جائے گا۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے کہا کہ اس ریفرنس کا ایک مرتبہ پھر بغور جائزہ لیا جائے اور اس سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا جائے تاکہ اس ضمن میں ریفرنس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جا سکے۔



















