مشترکہ کمیشن میں وزراء اعظم اور فوج کے سربراہان شامل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان اور افغانستان نے ہفتے کو کابل میں دونوں ملکوں کے درمیان کمیشن میں دونوں ملکوں کے وزراء اعظم اور فوج کے سربراہوں کو شامل کرکے اس کی سطح بلند کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
کابل کے صدارتی محل میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور افغان صدر حامد کرزئی نے مذاکرات میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے ان مذاکرات کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’دونوں ملک ایک کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ دونوں کا مستقبل ایک ہے۔‘
پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انہوں نے صدر حامد کرزئی، افغان پیس کونسل کے چیئرمین پروفیسر برھان الدین ربانی اور پیس کونسل کے ارکان کے ساتھ بات چیت میں دونوں ملکوں میں امن اور مفاہمت کے فروغ کے لیے پاکستان افغانستان مشترکہ کمیش کو وزراء اعظم کی سطح تک بلند کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس کمیشن میں اب دونوں ملکوں کے وزراء اعظم، وزراء خارجہ، فوج کے سربراہان، اور دونوں ملکوں کے خفیہ اداروں کے چیف شامل ہوں گے۔ جب کے اس سے قبل کمیشن دونوں ملکوں کی وزارتِ خارجہ ، فوج اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ حکام پر مشتمل تھا۔
پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے صدر حامد کرزئی کو یقین دلایا ہے کہ وہ افغانوں کی طرف سے شروع کیے جانے والے اور افغانوں کی سربراہی میں جاری رہنے والے امن کے قیام کے عمل کی مکمل حمایت کریں گے۔
انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی اور امن کمیش کی ان کوششوں کو سراہا جس کا مقصد افغانستان میں قومی سطح پر مفاہمت کا حصول ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ عمل مکمل طور پر افغانوں کے ہاتھوں میں ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کی حدود کا تعین کرنا بھی افغان عوام کا حق ہے۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس مرحلے پر شرائط اور مطالبات سامنے رکھنا سود مند ثابت نہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے عوام کے امن، سلامتی اور فلاح کے لیے اشد ضروری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر حامد کرزئی کے ایک حالیہ بیان پر جس میں انہوں نے کہا تھا افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے مفاد میں ہے پوچھے گئے ایک سوال پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ اس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا تھا۔
ایک اور سوال کہ کیا جواب پاکستان افغانستان مذاکرات میں امریکہ کو اعتماد میں لیا گیا ہے تو یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان مذاکرات میں امریکہ پوری طرح ساتھ ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انہوں نے کہا کہ جو بھی کچھ طے پائے گا وہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان ہو گا۔
صدر حامد کرزئی نے کہا کہ ا ن کی حکومت امریکہ سے مشاورت کو خیر مقدم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس عمل میں ایک اہم مدد گار اور معاون ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی طرف سے جو بھی کچھ بیان کیا گیا وہ پاکستان کی پالیسی میں اہم تبدیلی۔
امریکہ کے کردار کے حوالے سے ایک سوال پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ امریکہ کی افغانستان کے بارے میں کوئی بھی پالیسی ہو پاکستان افغانستان کی حمایت کرے گا۔
پاکستانی وزیر اعظم نے اس تاثر کو بھی یکسر مسترد کر دیا کہ افغانستان میں دہشت گرد پاکستان سے داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک سیاسی، دفاعی اور خفیہ اداروں کی سطح پر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں اور یہ تعاون مستقل میں مزید مستحکم ہو گا۔
یوسف رضا گیلانی نےکہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن، بجلی کی ٹرامیشن لائن اور مواصلات کے نظام کو بہتر کرنے کے کئی بڑے بڑے منصوبوں پر کام کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔



















