بلوچ افسر کے قتل کی تحقیقیات کا حکم

وقت اشاعت

سندھ ہائی کورٹ نے گوادر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمم عارف نور بلوچ کی گمشدگی اور بعد میں بلوچستان سے ان کی لاش ملنے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔

عارف نور اکتیس اکتوبر کو کراچی سے لاپتہ ہوگئے تھے۔

جسٹس گلزار حسین اور جسٹس ظفر عزیز باجوہ پر مشتمل بینچ کے روبرو پیر کو عارف نور بلوچ کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ عارف نور کے وکیل اختر حسین نے عدالت کو بتایا کہ عارف کی لاش مل چکی ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سماعت کے دوران عدالت نے اختر حسین ایڈووکیٹ سے دریافت کیا کہ اب کیا ہوسکتا ہے؟ جس پر انہوں نے تجویز دی کی اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ کس طرح عارف کو اٹھایا گیا اور کن حالات میں ان کی موت واقعے ہوئی ہے۔

عدالت نے ان کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری داخلہ اور کراچی کے ایس پی جمشید ٹاؤن کو ہدایت کی ہے کہ ایک ماہ کے اندر اس واقعہ کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے، جس کے بعد سماعت ملتوی کردی گئی۔

عارف نور کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عارف گوادر میں ایک روڈ حادثے میں زخمی ہوگئے تھے اور علاج کی غرض سے کراچی آئے ہوئے تھے۔

اکتیس اکتوبر کو کراچی کے علاقے گارڈن میں واقعے ان کے فلیٹ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا اور عارف کے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے اور سر پر ایک سیاہ غلاف ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔

بعد میں تئیس مارچ کو عارف نور کی بلوچستان کے علاقے وندر سے لاش ملی تھی جس کے سر میں گولی لگی ہوئی تھی اور جیب میں نام کی پرچی موجود تھی۔