ریفرنس میں تکنیکی خامیاں ہیں: سپریم کورٹ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنسرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تھا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق وفاقی کابینہ کو بریف کیا گیا
وقت اشاعت

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف صدارتی ریفرنس پر حکومتی وکیل سے کہا ہے کہ اس ریفرنس میں تکنیکی خامیاں ہیں اور معاملے کو دوبارہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے۔ ادھر وزیر اعلی سندھ کا کہنا ہے کہ عدالت تکنیکی معاملات میں نہ پڑے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تو عدالت نے حکومتی وکیل بابر اعوان سے کہا کہ اس ریفرنس میں ابھی تک وہ آئینی نکات واضح نہیں ہیں جن سے متعلق سپریم کورٹ سے رائے مانگی گئی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے قتل کے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کے ججوں کا رویہ متعصبانہ تھا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ججوں کے رویے کا ذکر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب میں کیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر وفاق صرف ججوں کے رویے سے متلق کوئی فصیلہ چاہتا ہے تو عدالت ابھی اس پر فیصلہ دینے کو تیار ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران ایک جج نے یہ بھی کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو یہ معاملہ صرف سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ بابر اعوان نے کہا کہ ملکی تاریخ میں کسی بھی قتل کے مقدمے میں اعانت کے ملز م کو سزائے موت نہیں دی گئی جبکہ واحد مثال ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ہے۔ اُنہوں نے پوچھا کہ کیا اس ریفرنس میں قانون کی دفعہ ایک سو نو کے تحت کسی ملزم کو سزائے موت دینا جائز ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس ریفرنس میں کچھ خامیاں رہ گئی ہیں جنھیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تھا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق وفاقی کابینہ کو بریف کیا گیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیر اعظم کو شاید ان تکنیکی خامیوں کا پتہ نہ ہو۔ اُنہوں نے سرکاری وکیل سے کہا کہ وہ ان افراد کو ان قانونی نکات کے بارے میں بریف کریں اور یہ معاملہ دوبارہ کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس ریفرنس کی لارجر بینچ میں سماعت سے پہلے اس کی تکنیکی خامیاں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ابھی یہ معاملہ اُن کے ہاتھ میں ہے اور حکومتی وکیل کو اس حوالے سے جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاملہ لارجر بینچ میں چلاگیا اور عدالت نے اس ریفرنس میں عدالتی معاونین مقرر کردیے تو پھر یہ معاملہ اُن کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ عدالت نے اس ریفرنس کی سماعت اکیس اپریل تک کے لیے ملتوی کردی جبکہ وفاقی کابینہ کا اجلاس بیس اپریل کو متوقع ہے۔

سماعت کے دوران حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑی تعداد کمرۂ عدالت میں موجود تھی۔

دوسری جانب سندھ کے وزیر اعلی قائم علی شاہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت تکنیکی معاملات میں نہ پڑے بلکہ حکومتی وکیل کا موقف سُنے‘۔ اُنہوں نے کہا کہ تکنیکی معاملات لارجر بینچ کی تشکیل کے دوران اُٹھائے جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ عدلیہ پر اُنہیں اعتماد ہے اور وہ اُمید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے مقدمے کا دوبارہ جائزہ لیکر تاریخ کو درست کردے گی۔

جب وزیر اعلی سندھ سے یہ پوچھا گیا کہ موجودہ عدلیہ نے این آر او کے خلاف فصیلہ بھی دیا ہے لیکن حکومت اُس پر عمل درآمد نہیں کر رہی تو قائم علی شاہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔