’2500میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا‘

بجلی فراہم کرنے والے ادارے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی یعنی پیپکو کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت دو ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی کی کمی کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔
پیپکو حکام کے مطابق لوڈشیڈنگ کا کم سے کم دورانیہ چار گھنٹے اور زیادہ سے گیارہ گھنٹوں تک ہے تاہم ہر شہر میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مختلف ہے۔
پیپکو کے ڈائریکٹر جنرل محمد خالد نے صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت ملک میں بجلی کی کل پیداوار 11023 میگا واٹ ہے جبکہ بجلی کی طلب 13743 ہے اور اس طرح ملک میں دو ہزار سات سو بیس میگا واٹ بجلی کی کمی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کو بغیر کسی تعطل بجلی فراہم کرنا پہلی ترجیح ہے اور بقول ان کے سیمنٹ، ٹیکسٹائل، گھی، شوگر انڈسری کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
ڈی جی پیپکو کے مطابق یہ کوشش کی جائے گی کہ پاور لومز کے لیے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ چار گھنٹوں سے زیادہ نہ ہو۔
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہناہے کہ پاکستان گزشتہ کئی برس سے توانائی کے بحران کا شکار ہے لیکن سنہ دو ہزار آٹھ کے بعد اس میں شدت آگئی ہے اور کئی علاقوں میں سولہ گھنٹے تک کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بھی کی گئی ہے۔
ڈی جی پیپکو محمد خالدنے واضح کیا کہ اس وقت غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی اور بقول ان کے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی ضرورت صرف ہنگامی صورت حال میں پڑتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران نے ملکی معیشت پر برے اثرات مرتب کیے ہیں جبکہ موجودہ حکومت کو عوامی احتجاج کا بھی سامنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد خالد نے بتایا کہ اس سال موسم گرما کے دوران بجلی کی بچت لیے جو منصو بہ تیار کیا جارہا ہے وہ تیاری کی آخری مراحل میں ہے جبکہ اپریل کے آخری ہفتے یا پھر مئی کے پہلے ہفتے میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے انرجی کانفرنس بھی منچقد کی جائے گی۔
ڈی جی پیپکو محمد خالد کا کہنا ہے کہ قدرتی گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے بھی بجلی کے شاٹ فال کا سامنا ہے اور یہ شاٹ فال پانچ سو میگا واٹ کے قریب ہے۔



















