مسئلہ شرمیلے طوطوں اور افزائشِ نسل کا

وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے چڑیا گھر کے حکام کو آج کل ایک عجیب مسئلے کا سامنا ہے اور وہ ہے شرمیلے طوطوں کی افزائش نسل کا۔

لاہور کے چڑیا گھر نے معروف بین الاقوامی نسلوں کے اسّی طوطے حال ہی میں حاصل کیے ہیں جن کو غیر قانونی طور پر پاکستان درآمد کیا گیا تھا۔

یہ طوطے بہت شرمیلے ہیں جس کے باعث ان کی افزائش نسل کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

سمگل ہونے والے یہ طوطے تقریباً ایک سال سے لاہور کے چڑیا گھر میں ہیں اور اب عدالت نے ان طوطوں کی مالکیت کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں محکمہ جنگلی حیات پنجاب کے سپرد کردیا ہے۔

عدالت کے حکم پر محکمہ جنگلی حیات کو ملنے والے ان پرندوں میں افریقن گرے اور روسیلا نسل کے طوطے شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق لاہور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر زاہد اقبال کا کہنا ہے کہ ایک لمبے عرصے سے یہ پرندے چڑیا گھر میں ہیں اور ان کی افزائش نسل کی عمرہوگئی ہے۔ ’لیکن ان پرندوں کی نسل بڑھانے کے لیے جس طرح کے پنجرے چاہیئیں وہ چڑیا گھر میں نہیں ہیں۔‘

’یہ پرندے شرمیلے ہیں اس لیے ان کو نسل بڑھانے کے لیے مخصوص ماحول کی ضرو رت ہے جو ان کے لیے چڑیا گھر میں میسر نہیں ہے۔ اور اسی وجہ سے ان پرندوں کو افزائش نسل کے لیے پنجاب کے مختلف والڈ لائف پارکوں میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

زاہد اقبال کا کہنا ہے کہ نہ تو چڑیا گھر میں اتنی گنجائش ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ان طوطوں کو مستقل بنیادوں پر رکھا جاسکے اور نہ ہی وہ سہولتیں ہیں جو ان سمگل شدہ طوطوں کی دیکھ بھال کے لیے چاہیئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان طوطوں کو والڈ لائف پارکوں میں بھیجنے سے افزائش نسل کا مقصد پورا ہوگا۔

لاہور چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق ان پرندوں کو فروخت کرنے کافیصلہ افرائش نسل کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ’اگر افزائش نسل سے زیادہ تعداد میں یہ معروف نسل کے طوطے حاصل ہوئے تو پھر ان کو فروخت کرنے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

چڑیا گھر کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ یہ پرندے خوبصورت اور باتونی ہونے کی وجہ سے قیمتی ہوتے ہیں اور اسی لیے ان کی سمگلنگ ہوتی ہے۔ ان کے بقول اس نسل کا طوطا جب بچہ ہوتا ہے تو اس کی قیمت بیس سے بائیس ہزار تک ہوتی ہے اور جب یہ طوطہ بڑا ہوتا ہے اس کی قیمت پچاس سےساٹھ ہزار تک ہوجاتی ہے۔