رینجرز کے اختیارات میں دوبارہ توسیع

وقت اشاعت

سندھ حکومت نے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت نیم فوجی ادارے رینجرز کو دیے گئے پولیس کے اختیارات میں ایک بار پھر تین ماہ کے لیے توسیع کردی ہے۔

انسداد دہشت گردی قانون کے سیکشن پانچ کے تحت یہ توسیع دی گئی ہے۔

اس اقدام پر تمام سیاسی حلقوں نے رینجرز کی کارکردگی کو سراہا ہے مگر ساتھ ہی امن و امان کی صورتحال پر سندھ حکومت کے وزیر سمیت قریباً تمام ہی حلقوں نے تشویش بھی ظاہر کی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے ہمارے نامہ نگار جعفر رضوی سے بات کرتے ہوئے رینجرز کو دیے جانے والے اختیارات کو دکھاوا قرار دیا۔ ’رینجرز کو دیے گئے اختیارات اس لیے ناکافی ہیں کہ بالآخر انہیں کسی بھی ملزم کو گرفتار کرکے عدالتی کارروائی کے لیے پولیس ہی کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔‘

شاہی سید نے کہا کہ رینجرز تو مجرموں کو پکڑتے ہیں، تفتیش کرتے ہیں مگر پھر رینجرز کو ان جمرموں کو قانوناً پولیس ہی کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔ ’پولیس میں ایک جانب تو سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں، تبادلے اور تقرریاں کی گئی ہیں اور دوسری جانب انیس سو بانوے کے فوجی آپریشن کے دوران کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کو چن چن کر ہلاک کردیا گیا۔ تو اب پولیس خوفزدہ بھی ہے اور سیاسی مجبوریوں کا شکار بھی ہے۔ لہٰذا پولیس والا چوبیس گھنٹوں ہی کے اندر اندر اس کا سودا کرتا ہے اور یہ ملزم پھر قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔ اور اگر اسے عدالت میں پیش کر بھی دیا جائے تو گواہ نہیں ملتا۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ جمہوری دور میں فوجی اداروں کی مدد مانگنے کی بجائے شہری اداروں کو مضبوط بنایا جاتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال ایسی ہے کہ رینجرز کی مدد حاصل کرنی پڑتی ہے جو نوّے فیصد گرفتاریاں درست کرتی ہے۔

’دو دہائیوں سے کراچی اور سندھ بھر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے ہمارا انحصار نیم فوجی ادارے پر ہے۔ لیکن اب چونکہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے شہری ادارے مضبوط و مستحکم نہیں ہوسکے اس لیے تو چار و ناچار ہمیں رینجرز ہی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ صدر پرویز مشرف کے دور میں جیسی بھی جمہوریت تھی جب وزارت داخلہ ہمارے پاس تھی تو ہم نے کسی حد تک امن و امان قائم کررکھا تھا۔ آخری دو برس میں تو ہم نے وزیراعلیٰ سندھ اور صدر مملکت کو لکھ کر بھی دے دیا تھا کہ اب اگر وہ چاہیں تو رینجرز کو واپس بھی بھیجا جاسکتا ہے۔‘

ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے بھی اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید کی اس بات سے اتفاق کیا کہ گزشتہ دو تین برس میں پولیس سیاسی بنیادوں پر میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں، تبادلے اور تقرریاں کی گئیں اور پولیس سیاسی مجبوریوں کا شکار ہے۔

سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کا تقاضہ ہے کہ رینجرز کو یہاں رکھا جائے اور ان کی کارکردگی بھی مددگار ثابت ہوئی ہے، اس لیے ان کے اختیارات میں توسیع ضروری تھی۔