کیا شدت پسندی میں کمی عارضی ہے

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان میں کچھ عرصے سے شدت پسندی کے واقعات میں کسی حد تک کمی اور افعانستان میں ان واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مبصرین اس کی مختلف وجوہات بتاتے ہیں۔ ان وجوہات میں مستقبل کے افغانستان کی صورتحال اور پاکستان کے اندر شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیاں نمایاں ہیں۔
لیکن بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کے واقعات میں کمی نہیں بلکہ ایک خاموشی ہے جس کے بعد ان واقعات کی ایک نئی لہر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
اگر پاکستان خاص طور پر خیبر پختونخواہ میں شدت پسندی یا دہشت گردی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ چند ہفتوں میں یہ واقعات پہلے کی نسبت کم ہوئے ہیں۔ دھماکے اور قومی تنصیبات پر حملے اب بھی ہو رہے ہیں لیکن اس شدت سے نہیں جس طرح گزشتہ برس دیکھے گئے تھے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسف زئی کا کہنا ہے کہ یہ سال افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا ہو سکتا ہے اس لیے کالعدم تنظیموں طالبان اور القاعدہ نے افغانستان میں اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ برسوں میں اپنی کارروائیاں مختلف علاقوں میں بڑھا دی تھیں تاکہ طالبان پر دباؤ بڑھایا جائے۔ اسی طرح طالبان نے بھی اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا تھا تا کہ اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو مضبوط نقطے پر بات چیت کر سکیں اور یہ ظاہر کریں کہ وہ بھی مضبوط ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات میں کمی کی ایک وجہ پاکستان اور قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اور ڈرون حملے بھی ہو سکتے ہیں جس سے شدت پسندوں کے نیٹ ورک متاثر ہوئے ہیں۔
باچا خان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ اور محقق خادم حسین نے کہا ہے کہ طالبان یا القاعدہ کی کوششیں افغانستان میں اس لیے بڑھ سکتی ہیں تا کہ مستقبل کے افغانستان میں اپنی پوزیشن مستحکم کر سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عسکری امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد نے کہا کہ انھیں کوئی خاطر خواہ کمی نظر نہیں آ رہی ’ہاں ایسا ضرور ہے کہ عوامی سطح پر اب شدت پسندوں کے خلاف ایک رائے ضرور بن گئی ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں متحرک طالبان کی آپس میں نظریاتی ہم آہنگی تو ہو سکتی ہے لیکن دونوں میں افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔
سابق انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخواہ مسعود پراچہ کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں کمی کی وجہ خفیہ ایجنسیوں، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کی وہ کوششیں ہیں جس سے شدت پسندوں کو حملے کرنے کے مواقع کم مل رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ان واقعات میں کچھ وقت کے لیے کمی ضرور آتی ہے لیکن اس کے بعد شدت پسند ایک نئی منصوبہ بندی کے تحت کارروائیاں کرتے ہیں جس کے لیے سکیورٹی فورسز تیار نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی کارروائیاں اور پاکستان میں ان واقعات میں کمی کا تعلق ایک حد تک تو ہو سکتا ہے لیکن اس کی بڑی وجہ پاکستان میں متحرک کالعدم تنظیموں کی اپنی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے۔



















