ڈیرہ اسماعیل خان: دو پولیس اہلکار ہلاک

وقت اشاعت

صوبہ خیبر پختونحوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے پولیس کے خصوصی دستے ایگل سکواڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں یونیورسٹی روڈ کے قریب چاہ کاظمی کے مقام پر ایگل سکواڈ کے دو اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ اس دوران موٹر سائکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔ اس حملے میں دونوں اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ دونوں اہلکار تھانہ چھاونی کی حدود میں گشت پر معمور تھے۔ پولیس پر یہ حملہ کافی عرصے کے بعد ہوا ہے۔

گزشتہ روز مغربی بائی پاس پر آڑے کے مقام پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے نوید عباس نامی نوجوان کو ہلاک کردیا تھا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں موبائل ٹیلیفون سروس پونے دو سال کے بعد بحال کی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ سروس شہر میں بڑھتے ہوئے فرقہ ورانہ تشدد اور دہشت گردی کی وارداتوں کی وجہ سے معطل کی گئی تھی۔

موبائل ٹیلیفون سروس پانچ روز پہلے بحال کر دی گئی تھی جس پر شہریوں نےخوشی کا اظہار کیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کا موبائل فون سروس سے تعلق جوڑنا سراسر زیادتی ہے کیونکہ شہر سے باہر موبائل فون سروس معطلی کے باوجود کام کرتی رہی ہے۔

موبائل ٹیلیفون سروس ضلع لکی مروت اور ضلع بنوں میں اب بھی معطل ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے ایوان میں کہا تھا کہ صوبے کے چوبیس اضلاع میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں لیکن موبائل ٹیلیفون سروس صرف تین جنوبی اضلاع میں معطل کی گئی جس کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا تھا کہ حکومت حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور چند روز میں بنوں اور لکی مروت میں بھی موبائل ٹیلیفون سروس بحال کر دی جائے گی۔