ذوالقرنین حیدر کی واپسی

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے پیر کو لندن سے وطن واپسی پر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔
تاہم فریقین نے فوری طور پر ملاقات کی تفصیل نہیں بتائی۔
ذوالقرنین حیدر لگ بھگ ساڑھے پانچ ماہ کی اپنی خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے پیر کی صبح لندن سے اسلام آباد پہنچے تھے جہاں ان کا استقبال کرنے کے لیے ان کے خاندان کے لوگ موجود تھے۔
سکیورٹی حکام نے سابق وکٹ کیپر کو ائر پورٹ پر موجود صحافیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی اور انھیں گاڑی میں بیٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
اس سے پہلے سابق وکٹ کیپر کے بھائی عقیل حیدر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ذوالقرنین نے وزیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے مکمل سکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے گزشتہ ہفتے لندن میں ذوالقرنین حیدر سے ملاقات کی تھی جس میں انھوں نے سابق وکٹ کیپر کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان میں ان کو اور ان کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
سابق وکٹ کیپر کے بھائی عقیل حیدر نے کہا تھا کہ ذوالقرنین کی وطن واپسی پر ان کا خاندان اور ان کی بیوی بہت خوش ہیں اور یہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خاندان کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔
عقیل حیدر نے یہ بھی بتایا تھا کہ ذوالقرنین کی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے بھی بات ہوئی ہے اور وہ واپس آ کر پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے جو ان کے ٹیم میں مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ ٹیم چھوڑ کر جانے والے وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر کے اس تمام معاملے کا جائزہ لینے والی پاکستان کرکٹ بورڈ کی تین رکنی کمیٹی نے گزشتہ سال دسمبر میں اپنی رپورٹ میں انہیں کمزور اعصاب کا ایک الجھا ہوا شخص قرار دیا تھا۔
تین رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا تھا کہ وہ ذوالقرنین حیدر سے تحریری طور پر تمام تفصیلات طلب کرے اور ان کی روشنی میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کیا تادیبی کارروائی کی جائے۔
واضح رہے نومبر میں جنوبی افریقہ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ون ڈے سیریز کے دوران چار ون ڈے میچز کھیلنے کے بعد ذوالقرنین حیدر ٹیم کی انتظامیہ سے پاسپورٹ حاصل کر کے انتظامیہ اور ٹیم کو بتائے بغیر اچانک لندن چلے گئے تھے اور اس وقت سے وہ وہیں مقیم تھے۔
لندن پہنچنے کے بعد ذوالقرنین نے ٹیم چھوڑنے کے اپنے فیصلے کا سبب ایک گمنام شخص کی جانب سے انہیں خراب کارکردگی کے لیے معاوضے کی پیشکش اور نہ ماننے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی قرار دیا تھا۔
ذوالقرنین حیدر وقتافوقتاً فیس بک پر کرکٹ میں موجود کرپٹ افراد کو بے نقاب کرنے سے متعلق پیغامات درج کرتے رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کی طرف سے کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی ہے۔
لندن پہنچنے کے بعد ذولقرنین حیدر نے برطانوی حکومت کو پناہ کی درخواست بھی تھی لیکن گزشتہ ہفتے وزیر داخلہ رحمان ملک کے ساتھ ملاقات کے بعد انھوں نے یہ درخواست واپس لے لی تھی۔



















