لاہور میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ، توڑ پھوڑ

لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں شہریوں نے منگل کو لاہور میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے لیسکو کے دفتر پر حملہ کردیا اور توڑ پھوڑ کی۔
شاہدرہ اور گردونواح کے شہریوں نے احتجاج جی ٹی روڈ پر شروع کیا تھا اور ٹریفک بلاک کیے رکھی بعد میں اچانک انہوں نے لاہور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن یعنی لیسکو کے دفتر پر حملہ کیا۔
عملے کو زدوکوب کرنے کے بعد مظاہرین نے دفتر میں توڑ پھوڑ کی فرنیچر باہر نکال کر نذرِ آتش کردیا اور ریکارڈ بھی جلا دیا۔
مظاہرین نے جو پاکستانی حکمرانوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، دفتر کی کھڑکیاں اور اس پر لگے بورڈ بھی توڑ ڈالے۔
دفتر کے چوکیدار عبدالغفور نے میڈیا کو بتایاکہ وہ مسلسل پولیس کو فون پر اطلاع کرتے رہے لیکن پولیس ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچی۔
پاکستان میں گرمی کا موسم شروع ہونے سے پہلے ہی لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔
پیپکو حکام کے مطابق دو روز پہلے سولہ ہزار میگا واٹ کی طلب کے مقابلے میں دس ہزارمیگا واٹ بجلی فراہم کی جاسکی تھی اور گذشتہ روز سوا گیارہ سو میگا واٹ بجلی فراہم کی گئی لیکن لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ شہروں میں دس سے بارہ اور دیہی علاقوں میں سولہ سے بیس گھنٹے تک جاپہنچا ہے۔
نامہ نگار علی سلمان کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف چھوٹے بڑے احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ لاہور فیصل آباد گوجرانوالہ، اوکاڑہ، پاکپتن، کمالیہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور سرگودھا سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف گذشتہ روز احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مبصرین کا کہناہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ جب طلب میں بھی اضافہ ہوگا تو لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
بعض مبصرین کہتے ہیں کہ ملک میں توانائی کی قلت نے جہاں ایک طرف عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کررکھا ہے وہیں اس کے ملکی صنعت پرمنفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
فیصل آباد میں صنعتکاروں اور مزدور نمائندوں نے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانے کی دھمکی دی ہے۔فیصل آباد میں ٹیکسٹائل اور ہوزری مینوفیکچررز سے وابستہ چودہ تنظیموں کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ اگر حکومت یکم مئی سے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ پر قابو نہ پاسکی تو پہیہ جام کیا جائے گا، ٹرینیں روکی جائیں گی اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو گھیراؤ ہوگا۔



















