القاعدہ کے اہم رکن کی ہلاکت کا دعویٰ

صوبہ کنڑ
،تصویر کا کیپشننیٹو افواج کا کہنا ہے کہ عبدالغنی کو مشرقی صوبہ کنڑ میں ہلاک کیا گیا
وقت اشاعت

افغانستان میں نیٹو افواج کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے ایک اہم رہنما عبدالغنی تیرہ اپریل کو صوبہ کنڑ پر ہونے والے فضائی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

عبدل الغنی عرف ’ابو حفس النجدی‘ کا تعلق سعودی عرب سے تھا اور نیٹو کے مطابق وہ افغانستان میں سرگرم القاعدہ تنظیم کے دوسرے اہم رہنما تھے۔ نیٹو کے بیان کے مطابق وہ تربیتی کیمپ چلاتے تھے اور قبائلی رہنماؤں اور غیر ملکیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔

نیٹو افواج کا کہنا ہے کہ عبدا لغنی کئی بڑے حملوں کے ذمہ دار تھے جن میں صدر حامد کرزئی کے اتحادی اور قبائلی رہنما ملک زرین کی ہلاکت بھی شامل ہے۔

عبدالغنی سنہ دو ہزار سات سے نیٹو کو مطلوب تھے۔ وہ سعودی عرب کے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں بھی تیئسویں نمبر پر تھے۔

عبد الغنی افغانستان میں نیٹو کو مطلوب القاعدہ رہنماؤں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے۔ تاہم نیٹو افواج کے ترجمان نے اس فہرست پر سب سے زیادہ مطلوب رہنما کی شناخت نہیں بتائی ہے۔

افغان امور کے تجزیہ کار احمد رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عبد الغنی کی ہلاکت کو نیٹو کی ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج مشرقی صوبہ کنڑ کے کئی پہاڑی علاقوں سے نکل چکی ہے اور القاعدہ ان کی جگہ موجودہ چوکیوں پر قابض ہوتی رہی ہے۔

احمد رشید کے مطابق عبدالغنی پاکستانی طالبان کے کئی گروپوں کو منظم کرنے میں مدد دے رہے تھے اور بظاہر وہ افغان طالبان کے ساتھ بھی کام کر رہے تھے۔

نیٹو کی اتحادی فوج کا دعویٰ ہے کہ پچھلے ایک ماہ میں اس نے القاعدہ کے پچیس سے زیادہ رہنما ہلاک کیے ہیں۔