خراب ادویات: ہلاکتیں، گرفتاریاں اور عدالتی کمیشن

،تصویر کا ذریعہGetty
وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے لاہور میں سرکاری ہسپتال سے ملنے والی مفت ادویات کے استعمال سے ہونے والی اموات کی تحقیقات کے سلسلے میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو تحویل میں لے لیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق نے بتایا کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے رکن جمیل خان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی یعنی پی آئی سی کے ایم ایس ڈاکٹر سلیم جعفر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سلیم جعفر اپنی حراست کی تردید کر رہے ہیں اور موبائل فون پر جب ان سے رابطہ گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے ان سے صرف پوچھ گچھ کی ہے۔
ادھر پنجاب حکومت نے اتوار کو محکمہ صحت کے مزید دو افسروں یعنی سابق دائریکٹر جنرل صحت چودھری اسلم اور چیف ڈرگ انسپکٹر معغظم علی خان کو بھی معطل کر دیا ہے۔
اس سے پہلے سنیچر کی شام سیکرٹیری صحت جہانزیب خان اور پی آئی سی کے سربراہ ڈاکٹر اظہر کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پی آئی سی کے ایم ایس اور دیگر حکام کی معطلی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے سینیئر ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی مزاحمت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کے مرکزی عہدیدار ڈاکٹر سلمان کاظمی نے بتایا کہ ان کے احتجاج کے پہلے مرحلہ میں لاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے محکمہِ آؤٹ پیشنٹ میں ہڑتال کی جائے گی۔
تاہم پیر کو انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی ہے۔
اس سے قبل انہوں نے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کو بلاجواز اور قبل از وقت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایک طرف عدالتی تحقیقات کرائی جارہی ہیں اور دوسری طرف عدالتی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے کارروائی کی جارہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کو بھی لاہور میں تین ایسے مریضوں نے دم توڑ دیا جنہوں نے پی آئی سی میں ملنے والی مفت دواء استعمال کی تھی۔ اب تک مجموعی طور پر دوا کے ری ایکشن سے مرنے والوں کی تعداد ایک سو بارہ ہوگئی۔
پارلیمانی سیکرٹیری صحت پنجاب ڈاکٹر سعید الہیْ نے بتایا کہ عدالتی تحقیقات کے لیے پیر کو لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو درخواست دے دی جائے گی تاکہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جوڈیشل انکوائری کے لیے اعلی عدلیہ کے کسی جج کو مقرر کریں۔
پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتال میں ملنے والی مفت ادویات کے استعمال سے ہونے والے اموات کا سراغ لگانے اور ذمہ دار افراد کے تعین کے لیے عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا تھا۔



















