آئین میں بیسویں ترمیم کا بل منظور

،تصویر کا ذریعہother
- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں قومی اسمبلی کی قانون و انصاف کے بارے میں قائمہ کمیٹی نے آئین میں بیسویں ترمیم کے بل کی منظوری دے دی ہے اور یہ بل یکم فروری کو بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش ہوگا۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن بیفن نسیم اختر چوہدری کی صدارت میں ہوا جس میں سترہ میں سے سات اراکین شریک ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکین نے اجلاس کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا اور ان کے ایک رکن سردار یعقوب ناصر جو لاعلمی میں آئے تھے وہ بھی واپس چلے گئے۔
اس ترمیمی بل کا مقصد الیکشن کمیشن کے نامکمل ہونے کے دوران جو سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اٹھائیس اراکین کے ضمنی انتخابات ہوئے ہیں انہیں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق قانون تحفظ فراہم کرنا ہے۔
سپریم کورٹ نے حکومت کو چھ فروری تک مہلت دے رکھی ہے کہ وہ نامکمل الیکشن کمیشن کے تحت منعقد ضمنی انتخابات کو قانونی تحفظ دیں ورنہ عدالت اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔
حکومت نے اٹھارہ جنوری کو یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اور سپیکر نے یہ بل کمیٹی کو بھجوایا تھا۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) نے اعتراض کیا تھا کہ اس بل میں ترمیم کی جائے کہ یہ صرف ایک بار کے لیے ہوگا اور آئندہ نامکمل الیکشن کمیشن کی صورت میں ضمنی انتخابات نہیں کرائے جا سکیں گے۔
مسلم لیگ (ن) کی غیر موجودگی میں حکومت نے پیر کو قائمہ کمیٹی سے جو بل منظور کروایا ہے اس میں ان کی تجویز کے مطابق یہ شق شامل کی گئی ہے اور اس کا اطلاق انیس اپریل سنہ دو ہزار دس سے ہوگا۔
حکومت نے اتفاقِ رائے سے اٹھارویں آئینی ترمیم منظور کی تھی اور اس پر انیس اپریل سنہ دو ہزار دس کو صدرِ مملکت نے دستحظ کیے تھے اور اس روز سے وہ لاگو ہوگئی تھی۔ اٹھارویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ ہر صوبے سے ہائی کورٹ کے جج کو کمیشن کا رکن نامزد کیا جائے گا۔
لیکن چیف الیکشن کمشنر نے دیگر اراکین کی غیر موجودگی میں ضمنی انتخابات کروائے اور جب یہ معاملہ عدالت میں آیا تو سپریم کورٹ نے کہا کہ انیس اپریل سنہ دو ہزار دس کے بعد منعقد کردہ ضمنی انتخابات کو قانونی تحفظ دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت نے مجوزہ بیسویں آئینی ترمیمی بل میں آئین کی شق دو انیس کی ذیلی شق (ای) میں ترمیم کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو کمیشن تصور کرنے کی شق شامل کی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما چوہدری نثار علی خان نے چند روز قبل کہا تھا کہ حکومت نیا چیف الیکشن کمشنر مقرر کرے کیونکہ موجودہ کمشنر کی مدت چند ہفتوں میں مکمل ہونے والی ہے۔ بصورت دیگر وہ حکومت سے بیسویں ترمیمی بل کی منظوری میں تعاون نہیں کریں گے۔
حکومت چاہتی ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت میں توسیع کی جائے اور آئندہ انتخابات ان کی نگرانی میں ہی ہونے چاہیے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) ایسا نہیں چاہتی۔



















