پشاور: شدت پسند تنظیم کے رہنما ہلاک

وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک خود کش حملے میں شدت پسند تنظیم انصار الاسلام کے سرکردہ رہنما آخونزادہ سمیت چار افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔

پشاور میں ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی شام چار بجے کے قریب پشاور کے علاقے پخہ غلام میں خیبر ایجنسی میں شدت پسند تنظیم انصار الاسلام کے ایک سرکردہ رہنما آخونزادہ کے گھر میں خودکُش حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں آخونزادہ اور خودکُش حملہ آور سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ خود کُش حملہ آور کی عمر اٹھارہ سے بیس سال کے درمیان تھی جو پیدل ہی ان کے زیرِ تعمیر مکان میں پہنچ گیا۔ اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں آخونزادہ کا ایک داماد اور ایک مزدور بھی شامل ہیں اور زخمیوں میں دو بچے بھی بتائے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی تاہم لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیاگیا ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ خودکُش حملہ آور کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا اس لیے اس کی شناخت فوری طور ممکن نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں دو مذہبی تنظیمیں گزشتہ کئی سالوں سے ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ جس میں لشکر الاسلام اور انصار الاسلام شامل ہیں۔ تاہم انصار الاسلام حکومت کے حمایتی گروپوں میں شامل ہے جن کو خیبر ایجنسی میں امن کمیٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔