توہینِ عدالت کیس: وزیراعظم پر فرد جرم عائد
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 3 منٹ
سپریم کورٹ نے پیر کو پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے میں فردِ جُرم عائد کر دی ہے۔
جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔
جسٹس ناصر الملک نے چارج شیٹ پڑھ کر سنائی اور کہا کہ ’وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ این آر او کے تحت زیرِ التوا مقدمات پر عمل درآمد شروع کروانے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھیں۔ جبکہ وزیرِ اعظم نے ایسا نہیں کیا۔
عدالتِ عظمٰی کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم آئینی طور پر عدالت کے احکامات ماننے کے لیے پابند تھے۔ تاہم وزیرِ اعظم گیلانی نے فردِ جرم کی صحت سے انکار کرتے ہوئے اسے چیلنج کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو استغاثہ مقرر کرتے ہوئے سولہ فروری تک دستاویزات جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ تاہم وزیرِ اعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے جواب داخل کروانے کے لیے عدالت سے چوبیس فروری تک کا وقت مانگا۔
مقدمے کی آئندہ سماعت بائیس فروری کو ہوگی جس میں اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ ستائیس فروری کو وکیل صفائی وزیرِ اعظم کی جانب سے شہادتیں اور دستاویزات پیش کریں۔ اٹھائیس فروری کو ہونے والی سماعت میں وزیرِاعظم کی جانب سے پیش کیے جانے والے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعظم گیلانی کو آئندہ سماعت کے دوران حاضری سے مستثنٰی قرار دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوسف رضا گیلانی ملک کے پہلے وزیراعظم ہیں جن پر توہینِ عدالت کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ اس سے پہلے دو سابق وزراءِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔
اس سے قبل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے دس فروری کو وزیر اعظم پر فردِ جُرم عائد کیے جانے سے متعلق اس سات رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کردی تھی۔
اُنیس جنوری کو وزیر اعظم نے سات رکنی بینچ کے سامنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ آئین میں درج ہے کہ صدر کو اندرون اور بیرون ملک استثنی حاصل ہے اس لیے وہ آئین کے پابند ہیں۔
متعدد موقعوں پر وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھیں گے چاہے اُنہیں توہینِ عدالت کے مقدمے میں جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
قانونی ماہر ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا ہوجاتی ہے تو نئے وزیر اعظم پر بھی این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل کرنا لازمی ہوگا ورنہ اُنہیں بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
یوسف رضا گیلانی سزا ملنے کی صورت میں وزیراعظم بھی نہیں رہیں گے بلکہ اُن پر کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے اور پارلیمان کا رکن بننے پر پانچ سال کی پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے۔
وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد کہا کہ یوسف رضا گیلانی پاکستان کے منتخب وزیرِ اعظم ہیں، انہیں عدالت سے توقع ہے کہ اُن کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیرِ اعظم آئین کے حلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتے، وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں سمجھتے ہیں۔‘
سپریم کورٹ سے سزا کے بعد صدر کی جانب معافی دیے جانے کے امکان پر وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا پیپلز پارٹی آئین میں دی گئی گنجائش کے مطابق اقدامات کرے گی۔
وزیر اعظم کی سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ مقامی پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجزز کے اہلکار شاہراہ دستور پر واقع اہم عمارتوں پر تعینات کیے گئے تھے جبکہ صرف اُنہی افراد کو اس شاہراہ پر جانے کی اجازت تھی جن کے وفاتر وہاں واقع ہیں۔
سپریم کورٹ کی عدالت نمبر چار جہاں پر وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت میں فرد جُرم عائد کیے جانے کی کارروائی ہوئی وہاں پر داخلےکے لیے خصوصی پاسز جاری کیے گئے۔



















