سپریم کورٹ: ڈاکٹروں کو بحال کرنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سپریم کورٹ نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے معطل ڈاکٹروں کو بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ذمہ داروں کا تعین نہ ہو اُس وقت تک کسی کو معطل نہ کیا جائے۔
پنجاب حکومت نے جعلی ادویات سے ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کا جج بھی اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کر رہے ہیں۔
جسٹس تصدیق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جعلی ادویات سے ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔
پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی۔
بینچ میں موجود جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت ہر معاملے میں جلد بازی کیوں کرتی ہے۔ اُنہوں نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا کسی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیے بغیر اُنہیں معطل کرنا غیر قانونی نہیں ہے۔
اُنہوں نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ پنجاب حکومت ان ڈاکٹروں کی معطلی کا نوٹیفکیش واپس لے لے گی۔
اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ اسی کے قریب پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں جس پر عدالت نے پنجاب کے سیکرٹری صحت سے کہا کہ وہ ڈاکٹروں کے نمائندوں سے مذاکرات کر کے اُن کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔
عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر ایک مقدس پیشہ ہے اور ڈاکٹروں کو بھی چاہیے کہ وہ مریضوں کی دیکھ بھال کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جعلی ادویات کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں نے عدالت کو بتایا کہ صرف اُن ادویات بنانے والی کمپنیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جن کے پاس لائسنس نہیں تھے یا اُن کے لائسنس منسوخ ہوچکے ہیں۔
اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالت کو بتایا کہ چاروں صوبوں نے ادویات سے متعلق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بنانے سے متعلق قراردادیں پاس کر لی ہیں جس میں اس اتھارٹی کے قیام سے متعلق قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا گیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ بہت جلد اس ضمن میں ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔



















