بلوچستان: محکمہ زراعت کے سولہ افسران گرفتار

    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں پٹ فیڈ کینال کے کمانڈ ایریا کے منصوبے میں سات کروڑ روپے سے زائد کے خرد برد کے انکشاف پر ڈائریکٹر جنرل زراعت سمیت سولہ افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

1997ءمیں پٹ فیڈر کینال کے کمانڈ ایریا کے منصوبے میں قومی احتساب بیورو بلوچستان کے مطابق کروڑوں روپے کا خرد برد ہوا۔ نیب کی تحقیقات سے ساڑھے سات کروڑ روپے سے زائد کی ہونے والی بدعنوانی کو ثابت کیاگیا۔

جن افسران کو گرفتار کیا گیا ان میں نیب بلوچستان کے ڈائریکٹرجنرل زراعت یار محمد پندرانی، سابق ڈی جی زراعت غلام رسول، سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر محمود، ڈائریکٹرتوسیع زراعت محمد شریف عمرانی، ڈائریکٹرمحمد رشید مستوئی، عبدالستار لاشاری، منیر احمد، ڈپٹی ڈائریکٹرمحمد اسلم لغاری، رسول بخش لونی، ممتاز علی، کریم بخش، وزیر خان ، محمد اکبر احسان الحق سمیت 12 افسران کو گرفتار کرکے گزشتہ روز کوئٹہ، نصیر آباد سبی اور جعفرآباد سے کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل منتقل کیا گیا۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل نیشنل اکاونٹیبلٹی بیورو (نیب) بلوچستان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کے اجراء پر مذکورہ بالا افسران نے بلوچستان ہائیکورٹ سے ضمانت کے حصول کےلیے رجوع کیا ان کی ضمانت کی درخواست بلوچستان ہائیکورٹ نے مسترد کردی۔

بعد ازاں محکمہ زراعت کے افسران نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا وہاں سے درخواست مستر د ہونے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے مختلف علاقوں سے محکمہ زراعت کے افسران کو گرفتار کرلیا۔

خیال رہے کہ نیب کی جانب سے بدعنوانی کے مقدمے میں محکمہ زراعت کے بائیس افسران کو نامزد کیا گیا۔

جس میں مذکوہ منصوبے پر کام کرنے والے ٹھیکدار بھی شامل ہیں مجموعی طور پر اب تک سولہ کے قریب ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہے جب کہ دیگرملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔