جامعہ سندھ کے وائس چانسلر جبری رخصت پر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر مغل کو تا حکم ثانی طویل رخصت پر روانہ کر دیا گیا۔
گورنر سندھ نے جو سندھ یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر مغل کو تا حکم ثانی طویل رخصت پر روانہ کر دیا ہے اور ان کی جگہ یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلرڈاکٹر پروین شاہ کو قائم مقام وائس چانسلر مقرر کر دیا ہے۔
سندھ یونیورسٹی میں گزشتہ دو ماہ سے ٹیچرز ایسو سی ایشن ڈاکٹر مغل کی بر طرفی کے لیے تحریک چلا رہی تھی اور دو جنوری سے تعلیمی سرگرمی معطل تھی۔
انجمنِ اساتذہ نے پروفیسر بشیر چنڑ کے قتل کے بعد سے تحریک شروع کر دی تھی اور کلاسوں کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
گورنر کی بنائی ہوئی سابقہ کمیٹی نے انہیں رخصت پر روانہ کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس تجویز کو صوبائی وزیر تعلیم نے مسترد کر دیا تھا جس کے بعد اساتذہ نے دوبارہ ہڑتال شروع کر دی تھی۔
گورنر نے بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رشید شاہ کی سربراہی میں دوسری کمیٹی مقرر کی تھی ۔
اس کمیٹی نے گورنر کو دوبارہ سفارش کی تھی کہ ڈاکٹر مغل کی رخصت کے علاوہ اساتذہ کسی حال میں تعلیمی سرگرمی جاری رکھنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔
اس کمیٹی کی شفارش پر گورنر نے ڈاکٹر نذیر مغل کو تا حکم ثانی رخصت پر روانہ کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر مغل کو سن دو ہزار دس میں چار سال کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اس معیاد سے قبل بھی ایک بار سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے تھے۔
پروفیسر بشیر چنڑ سندھ یونیورسٹی میں طلباء امور کے ناظم بھی تھے۔ ان کے قتل کے واقعہ سے قبل سندھ یونیورسٹی کے انتیس طلباءکو جامعہ سے خارج کردیا گیا تھا ۔ ان طلباءکو یونیورسٹی میں امن و امان خراب کرنے اور فائرنگ کرنے کے الزام میں خارج کیا گیا تھا۔
شروع میں ان اساتذہ کا مطالبہ تھا کہ بشیر چنڑ کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے لیکن بعد میں ان مطالبات میں اضافہ ہوگیا۔ جن میں وائس چانسلر کی برطرفی، طلباء یونین کی بحالی اور جامعات سے رینجرز کو نکالنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔



















