’مون سون اور نکاسی آب کا غیر موثر نظام‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ سندھ کی ساحلی پٹی میں تیز ہوائیں چلنے کا سلسلہ جاری ہے اور سمندری پانی سے کئی گاؤں زیر آب آ چکے ہیں۔
ضلع بدین کا علاقہ بھگڑا میمن گزشتہ سال شدید بارشوں اور ایل بی او ڈی سیم نالے سے متاثر ہوا تھا۔ ُاس وقت بھی وہاں بارشوں سے پہلے تیز ہوائیں چلی تھیں۔
علاقے کے مکین عارف ملاح کا کہنا ہے کہ وہ تو ابھی سے ہی پریشان ہیں، اس وقت تک بارش پڑی نہیں ہے۔’ یہ جو بارش کے بغیر ہوا چل رہی ہے اس سے ہمارا نقصان ہو چکا ہے ابھی سے ہی سمندر کا پانی داخل ہوگیا ہے۔‘
ان کے مطابق ایل بی او ڈی سیم نالے کی حالت یہ ہے کہ اس کا سمندر کے قریب کوئی حفاطتی پشتہ ہی نہیں رہا، ہوا کے تھوڑے دباؤ کے ساتھ اس کا پانی بھی گاؤں میں داخل ہو جائے گا۔
محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس ہفتے سے مون سون کا سلسلہ شروع ہوجائےگا جو ستمبر تک جاری رہے گا۔
محکمۂ کے ڈائریکٹر جنرل عارف محمود کا کہنا ہے کہ اس سال معمول سے پندرہ فیصد زیادہ بارشوں کا امکان ہے جبکہ گزشتہ سال بہّتر فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔
صوبہ سندھ کو گزشتہ دو سالوں سے بارشوں اور سیلاب کا سامنا رہا ہے، صرف گزشتہ سال ہی نوے لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے، جن میں زیادہ تر بدین، ٹھٹہ، سانگھڑ، میرپور خاص اور ٹنڈو محمد خان اضلاع سے تعلق رکھتے تھے۔
لیفٹ بینک آؤٹ فار ڈرین یعنی ایل بی او ڈی سیم نالہ نوابشاہ سے شروع ہوتا ہے اور کئی علاقوں سے سیم کا پانی لیکر سمندر میں خارج کرتا ہے، اس نالے میں گزشتہ سال کئی مقامات پر شگاف پڑے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سید سردار علی شاہ کا دعویٰ ہے کہ تمام شگاف پر کر دیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ حفاظتی پشتوں پر مٹی ڈال کر انہیں ڈیرھ سے دو فٹ اونچا کیا گیا ہے۔ بقول ان کے ایل بی او ڈی کی ڈیزائن گنجائش چار ہزار سو کیوسک ہے مگر گزشتہ سال اس سے بارہ ہزار کیوسک پانی کا گذر ہوا تھا۔
صوبہ سندھ میں بڑے عرصے تک شدید بارشیں نہ ہونے کے باعث لوگوں نے بارش کی قدرتی گذر گاہوں پر قبضہ کر لیا جس کے باعث پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی اور کئی شہر زیر آب آگئے تھے۔
ان میں جھڈو شہر بھی شامل تھا، شہر کے پانی میں ڈوبنے کی وجہ نکاسی آب کے لیے استعمال ہونے والے سیم نالہ’چھنڈن موری‘ پر مکانات تعمیر کرنا تھا۔
حکام نے کچھ تجاوزات ہٹائیں مگر مقامی رہائشی ایاز کھوسو کا کہنا ہے کہ اطمینان بخش اقدامات نہیں اٹھائے گئے کیونکہ اس سیم نالے کی چوڑائی سو فٹ کرنی تھی مگر اس کے برعکس چالیس فٹ کی گئی ہے۔
سندھ میں پانی کی قدرتی گذر گاہوں سے ناجائز قبضے ہٹانے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے، جس کے تحت قبضہ گیروں کو سزا اور جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
سیلاب کے متاثرین کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اتحاد پیپلز اکاؤنٹبلٹی کمیشن آن فلڈز کے رہنما سکندر بروہی کا کہنا ہے کہ ایل بی او ڈی کے علاوہ دیگر علاقوں میں پانی کی نکاسی کا کوئی راستہ ہی نہیں۔
سکندر بروہی کے مطابق سندھ کے باسٹھ فیصد علاقے میں نکاسی کا کوئی نظام ہی نہیں بنایا گیا، ان علاقوں کا پانی قدرتی گذر گاہوں سے خارج ہوتا ہے، گزشتہ سال کی بارشوں اور سیلاب کے بعد یہ طے کیا گیا تھا کہ ان سیم نالوں جنہیں مقامی زبان میں ڈھورا، پران اور چھنڈن کہا جاتا ہے سے تجاوزت ہٹائی جائیں گی اور انہیں چوڑا کیا جائے گا تاکہ ان کی ذریعے پانی کی نکاسی ہو سکے۔ مگر کہیں قابل ذکر بھی کام نہیں ہوا۔ اس لیے اگر غیر معمولی بارش ہوتی ہیں تو سندھ ویسے ہی ڈوبےگا جیسے گزشتہ سال ڈوبا تھا۔
صوبائی وزیر بحالی مظفر شجراہ کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے کئی سیم نالوں اور قدرتی گذرگاہوں سے تجاوزات ہٹائی ہیں اور ان گذر گاہوں کو کافی حد تک صاف کر دیا ہے اگر پانی آتا ہے تو ان کی مدد سے نکاسی آب ممکن ہو سکے گی۔



















