نوجوان ڈاکٹروں کا ہڑتال ختم کرنےکا اعلان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پنجاب میں نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے سرکاری ہسپتالوں میں جاری ہڑتال ختم کرتے ہوئے دوبارہ کام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بات کا اعلان اتوار کی رات نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا گیا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پیر سے صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز میں نوجوان ڈاکٹرز دوبارہ اپنی ڈیوٹی دیں گے۔
تنظیم کے عہدیدار ناصر بخاری کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں ہڑتال ختم کی جارہی ہے تاہم پنجاب حکومت نے عدالتی ہدایات کے باوجو ہسپتالوں سے پولیس کو واپس نہیں بلایا۔
بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پنجاب بھر میں نوجوان ڈاکٹر گزشتہ بیس دنوں سے ہڑتال پر تھے اور ان کا یہ مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے سروس سٹرکچر کا بھی اعلان کیا جائے۔
لاہور ہائی کورٹ نے سنیچر کو نوجوان ڈاکٹروں کو حکم دیا تھا کہ وہ ہڑتال ختم کر کے پیر سے کام شروع کریں۔ ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کی طرف سے ڈاکٹروں کو جاری کردہ شوکاز نوٹسوں اور ان کی تبادلوں پر بھی عملدرآمد روک دیا تھا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار ناصر بخاری نے خبردار کیا کہ اگر ڈاکٹروں کو دوبارہ بند گلی میں دھکیلا گیا اور انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا تو دوبارہ ہڑتال کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ سروس سٹرکچر کے لیے ان کے لڑائی ختم نہیں ہوئی اور جب تک ان کو ان کا حق نہیں ملے گا وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ناصر بخاری نے کہا کہ حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی تو ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے اگر انہیں مطالبات کی منظوری کے لیے کوئی قدم اٹھانا پڑا تو وہ بڑا سے بڑا قدم اٹھانے کے تیار ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار نے بتایا کہ پیر کے روز عدالتی کارروائی کے بعد ان کی تنظیم کا دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں تمام صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔



















