میمو کیس میں حسین حقانی کو واپس بلایا جائے: سپریم کورٹ

حسین حقانی نے عدالت میں یہ بیان حلفی جمع کروایا تھا کہ عدالت انھیں جب بھی طلب کرے گی تو وہ چار دنوں کے اندر پیش ہو جائیں گے
،تصویر کا کیپشنحسین حقانی نے عدالت میں یہ بیان حلفی جمع کروایا تھا کہ عدالت انھیں جب بھی طلب کرے گی تو وہ چار دنوں کے اندر پیش ہو جائیں گے
وقت اشاعت

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو متنازع میمو کے مرکزی کردار اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو چار ہفتوں میں ملک میں واپس لانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ حسین حقانی کو وطن واپس لانے کے لیے تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے جائیں۔

تاہم حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ اُن کے موکل کی جان کو خطرہ ہے اس لیے وہ پاکستان واپس نہیں آسکتے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے متنازع میمو کیس کی سماعت کی۔ حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ پیر کی شب اُن کے اپنے موکل سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی اور اُنھوں نے سکیورٹی سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اُن کی سکیورٹی کی ذمے داری وزارت داخلہ کو دی گئی تھی اور سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ حسین حقانی کو وطن واپسی پر تمام ممکنہ سیکورٹی فراہم کی جائے گی تو پھر اس میں خدشات کہاں سے آگئے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ اس میمو میں جتنے بھی درخواست گُزار تھے وہ سب اقتدار میں آگئے ہیں اس کے علاوہ فوج اور اس کے خفیہ ادارے بھی اس مقدمے میں پیش پیش ہیں لہذا اُن کے موکل کو پہلے سے اب زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف سمیت اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد نے بھی متنازع میمو کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ میاں نواز شریف پاکستان کے متوقع وزیر اعظم ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ نواز شریف خود اقتدار میں آ رہے ہیں اس لیے وہ خود حسین حقانی کے خلاف کارروائی کرلیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور عدالت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون وزیرِاعظم بن رہا ہے۔ عدالت نے تو صرف میرٹ پر ان درخواستوں کا فیصلہ کرنا ہے۔

عدالت نے نئے وزیر اعظم سے متعلق حسین حقانی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے اُنہیں چار ہفتوں میں ملک میں واپس لانے کا حکم دیا۔

بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس میمو سے متعلق بنائے گئے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے اور ایک آپشن یہ ہے کہ حسین حقانی کے خلاف کارروائی شروع کرد ی جائے۔

اس کے جواب میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اُن کے موکل کو ابھی مجرم بھی قرار نہیں دیا گیا لیکن اس کے باوجود اُن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب تک کسی پر کوئی جُرم ثابت نہیں ہوتا اُس وقت تک وہ معصوم ہیں اور حسین حقانی پر تو ابھی تک کوئی جُرم ثابت نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے حسین حقانی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر نے عدالت میں یہ بیان حلفی جمع کروایا تھا کہ وہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت جب بھی طلب کرے گی تو وہ چار دن کے نوٹس پر عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔

ایبٹ آباد میں امریکی فورسز کی طرف سے القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کے بعد حسین حقانی کی طرف سے مبینہ طور پر امریکی افواج کے سربراہ کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں پاکستانی افواج کی طرف سے جمہوری حکومت کے خلاف ممکنہ کاررروائی کو روکنے کے لیے امریکی فوج سے مدد طلب کی گئی تھی۔

اس متنازع میمو سے متعلق پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ احمد شجاع پاشا نے بھی عدالت عظمیٰ میں اپنے بیاناتِ حلفی جمع کروائے تھے۔ اس میمو کی سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کرد ی گئی۔