’چیف جسٹس، الیکشن کمشنر کے کردار سے مایوس ہوا‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
وقت اشاعت

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے اپنی رہائش گاہ میں بستر علالت پر میڈیا سے ملاقات کی اور عندیہ دیا کہ وہ صحت یاب ہوکر الیکشن دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

عمران خان عام انتخابات سے صرف چند ہی روز پہلے ایک حادثے کا شکار ہوکر صاحب فراش ہوگئے تھے جس میں ان کی ریڑھ کی ہڈی پر چوٹیں آئی تھیں۔عمران خان نے کہا کہ چند طبی رپورٹس کا انتظار ہے اس کے بعد وہ خود سیاست کے میدان میں ہوں گے۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق عمران خان حادثے کا شکار ہونے کے بعد سے بستر پر ہیں اور تاحال قومی اسمبلی میں اپنا حلف بھی نہیں اٹھا سکے ہیں۔ حالیہ چند دنوں میں سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ ان کی حالت زیادہ خراب ہے لیکن انہوں نے میڈیا کو بلا کر اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ وہ جلد قومی اسمبلی پہنچ رہے ہیں جہاں ان کی پہلی تقریر بہت اہم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں ریکارڈ دھاندلی ہوئی ہے اور یہ واحد انتخابات ہیں جن میں ہر پارٹی دھاندلی کا الزام عائد کر رہی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ مسلم لیگ نون سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر دھاندلی کا الزام عائد کر رہی ہے اور دیگر جماعتیں پنجاب میں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ انتخابات کے نتائج کے فوری بعد وہ ہسپتال میں تھے اور انہیں دھاندلی کا مکمل اندازہ نہیں ہوا لیکن جب پورے پاکستان سے دھاندلی کی شکایات آنا شروع ہوئیں تو انہیں علم ہوا کہ کتنے بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس کے کردار سے مایوس ہوئے ہیں اور الیکشن کمشن اور عدلیہ نے جانبدارانہ کردار ادا کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ جن چند حلقوں کی وہ نشاندہی کر رہے ہیں وہاں مکمل اور غیر جانبدارانہ چھان بین ضروری ہے اور ایسی انکوائریاں ایک سبق ہوتی ہیں تاکہ آئندہ الیکشن میں دھاندلی کاراستہ روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ نواز شریف کو موقع دینا چاہتے ہیں اور اگر وہ ٹھیک کام کرتے رہے تو ان کا ساتھ دیا جائے گا لیکن جہاں انہوں نے قومی مفاد کے خلاف کام کیا تو انہیں ایک ایسی اپوزیشن کا سامنا کرنا ہوگا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

ڈرون حملوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ ڈرون حملے کر رہا ہے تب تک یہ جنگ جہاد قرار دی جاتی رہے گی اور دین کے لیے مرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔

اگر یہ جنگ ہماری ہے تو پہلے ڈرون حملے بند کرنا ہوں گے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ خیبر پختونخواہ سے گزرنے والے نیٹو کنٹینرز کا راستہ روکیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتے جس کے نواز شریف حکومت یہ کہے کہ وہ بے بس تھی اور کچھ نہیں کر پائی۔ عمران خان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت خود فیصلے کرے اور اچھے فیصلوں میں تحریک انصاف ساتھ دے گی۔

گفتگو کےدوران عمران خان ہشاش بشاش تھے اور انہوں نے صحافیوں سے ہاتھ ملایا اور بیمار پرسی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

تحریک انصاف کے میڈیا سیل نے صحافیوں کو تین گروہوں میں تقسیم کر کے الگ الگ ملاقات کروائی۔ دوران ملاقات کیمرہ اور ریکارڈنگ ممنوع تھی اور یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ دوران ملاقات موبائل فون پر خبریں لکھوانے سے بھی گریز کیا جائے۔