جی ایس ٹی میں اضافہ غیر آئینی ہے : سپریم کورٹ

عدالت کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں اضافے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے
،تصویر کا کیپشنعدالت کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں اضافے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے
وقت اشاعت

پاکستان کی سپریم کورٹ نے موجودہ حکومت کی طرف سے جنرل سیلز ٹیکس میں ایک فیصد اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے پاس اعلامیے کے ذریعےٹیکس کی شرح میں اضافے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ائل اینڈ گیس ریگولیش اتھارٹی نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قمیتوں کو یکم جون کی سطح پر لانے کا اعلان کیا ہے۔

جی ایس ٹی میں اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پچھتر سے لیکر نوے پیسے فی لیٹر اضافہ ہوگیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافے سے متعلق از خود ٹوس کا مخصر فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ تیرہ جون سے جی ایس ٹی میں اضافے کے بعد صارفین سے حاصل کی گئی رقم قابلِ واپسی ہے ۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس عرصے کے دوران جی ایس ٹی میں اضافے کے بعد جتنی رقم بھی اکھٹی ہوئی ہے اُس کو قومی خزانے میں جمع کروایا جائے تاہم اس رقوم کی واپسی پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہے۔

عدالت نے متعلقہ حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے کے بعد جتنی اضافی رقم موصول ہوئی ہے اُس کی تفصیلات سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو جمع کروائی جائیں۔

سپریم کورٹ نے سی این جی پر نو فیصد اضافی ٹیکس کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ جس قانون کے تحت جی ایس ٹی میں اضافہ کیا گیا وہ غیر آئینی ہے اور 1931 کا ایکٹ آئین کے آرٹیکل 77 سے متصادم ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں اضافے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافہ کرکے اس کو سولہ فیصلد سے بڑھا کر سترہ فیصد کرنے کی تجویز دی تھی جس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا تھا جبکہ بجٹ کی تجاویز ابھی تک پارلیمنٹ سے پاس نہیں ہوئیں۔

عدالت نے کہا کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول رکھنے کی ذمہ داری حکومتِ وقت پر ہے اور حکومت منافع خوروں کے خلاف کارروائی کے لیے اقدامات کرے۔

دوسری جانب وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے کا احترام کرے گی۔قومی اسمبلی میں دیے گئے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہوں گے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 1931 کے ایکٹ کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے گا۔ اٹارنی جنرل منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت حکومت پیشگی ٹیکس وصول کرسکتی ہے۔