جنگ بندی کےخاتمے کے بعد فوجی قافلے پر پہلا حملہ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے سرحدی علاقے میں فوج کے ایک قافلے پر شدت پسندوں کی طرف سے فائرنگ کی گئی ہے جس میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔
کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے حکومت کے ساتھ 40 روز قبل ہونے والی جنگ بندی میں مزید توسیع نہ کرنے کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز پر یہ پہلہ حملہ ہے۔
پشاور میں ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعے کو پشاور اور نیم قبائلی علاقے ایف آر پشاور کے سرحدی علاقے میں پیش آیا۔
انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ معمول کی گشت پر فرنٹیئر روڈ کی طرف جا رہا تھا کہ اس دوران عزیز مارکیٹ میں واقع ایک عمارت سے ان پر شدت پسندوں نے خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ حملے میں کم سے کم ایک فوجی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو سی ایم ایچ پشاور منتقل کردیا گیا ہے، تاہم پولیس ذرائع نے مرنے والے اہلکاروں کی تعداد دو بتائی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے فوجی قافلے کو راکٹ لانچروں سے نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی جوابی کارروائی کی گئی تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں ۔
بدھ کو تنظیم کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا تھا کہ تنظیم کی شوریٰ نے متفقہ طور پر جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر دوسری طرف قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے قلعے میں اسلحہ کے ذخیرے میں آگ لگنے سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلحہ کے ڈپو میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہے جس سے قلعے کی عمارت کو نقصان پہنچا، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
تاہم مقامی ذرائع کے مطابق اسلحہ کے ذخیرے میں آگ اس وقت لگی جب شدت پسندوں کی طرف سے رات کی تاریکی میں قلعے پر مارٹر اور راکٹ لانچروں سے حملہ کیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رات گئے تک قلعے کے اندر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایک شدت پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔



















